Surah An Nahl Ayat 105 (16:105)
The Bee · Juz 14 · Makki
اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجھوٹا بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی جھوٹے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اوروہی جھوٹے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{انما یفتری الكذب:جھوٹا بہتان وہی باندھتے ہیں۔} کافروں کی طرف سے قران پاک سے متعلق رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر جو اپنی طرف سے قران بنالینے کا بہتان لگایا گیا تھا اس ایت میں اس کا رد کیا گیا ہے۔ ایت کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ جھوٹ بولنا اور بہتان باندھنابے ایمانوں ہی کا کام ہے۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۱۴۴ ملخصا) جھوٹ کی مذمت: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بدترین گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ا س کے علاوہ بہت سی جگہوں پر جھوٹ کی مذمت فرمائی گئی اور جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی۔ بکثرت احادیث میں بھی جھوٹ کی برائی بیان کی گئی ہے ان میں سے 4احادیث یہاں ذکر کی جاتی ہیں: (1)… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صدق کو لازم کرلو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ۔آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب قول اللہ تعالی: یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین ۴ / ۱۲۵ الحدیث: ۶۰۹۴ مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ ص۱۴۰۵ الحدیث: ۱۰۵(۲۶۰۷)) (2)… حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور جھوٹ باطل ہی ہے (یعنی جھوٹ چھوڑنے کی چیز ہی ہے) اس کے لیے جنت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے جھگڑا کرنا چھوڑا حالانکہ وہ حق پر ہو یعنی حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہیں کرتا اس کے لیے جنت کے وسط میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کیے اس کے لیے جنت کے اعلی درجے میں مکان بنایا جائے گا۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی المراء ۳ / ۴۰۰ الحدیث: ۲۰۰۰) (3)…حضرت سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔(ابوداود کتاب الادب باب فی المعاریض ۴ / ۳۸۱ الحدیث: ۴۹۷۱) (4)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے۔(شعب الایمان الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۲۱۳ الحدیث: ۴۸۳۲) نوٹ: جھوٹ سے متعلق مزید معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ 16 سے’’جھوٹ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔