Surah An Nahl Ayat 106 (16:106)
The Bee · Juz 14 · Makki
مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰـكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ 106
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفرپر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہو لیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{من كفر بالله من بعد ایمانه:جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے۔} شان نزول :یہ آیت حضرت عمار بن یاسررضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عمار ان کے والد حضرت یاسر ان کی والدہ حضرت سمیہ حضرت صہیب حضرت بلال حضرت خباب اور حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہم کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ (ضعیف تھے جس کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتے تھے انہوں ) نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادل نخواستہ کلمہ کفر کا تلفظ کردیا ۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خبر دی گئی کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کافر ہوگئے تواپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’ہرگز نہیں حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ سر سے پاؤں تک ایمان سے پر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوق ایمانی سرایت کرگیا ہے۔ پھر حضرت عماررضی اللہ تعالی عنہ روتے ہوئے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کیا ہوا حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: اے خدا کے رسول! بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے۔ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی ’’دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔( خازن النحل تحت الایۃ: ۱۰۶ ۳ / ۱۴۴ملخصا) حالت اکراہ میں کلمہ کفر کہنے سے متعلق 4 شرعی مسائل: (1)…اس آیت سے معلوم ہوا کہ حالت اکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمہ کفر کا زبان پر جاری کرنا جائز ہے جب کہ آدمی کو (کسی ظالم کی طرف سے) اپنی جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا (حقیقی) خوف ہو ۔(اور اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی دو معنی والی بات کہنے میں گزارا چل سکتا ہو جس سے کفار اپنی مراد لیں اور کہنے والا اس کی درست مراد لے تو ضروری ہے کہ ایسی دو معنی والی بات ہی کہے جبکہ اس طرح کہنا جانتا ہو۔ )۔ (2)… اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو اسے اجر ملے گا اور وہ شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں سید الشہداء فرمایا ۔ (3)… جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو تو وہ کلمہ کفر زبان پر لانے سے کافر ہوجائے گا ۔ (4)… اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے مذاق کے طور پر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلمہ کفر زبان پر جاری کرے وہ کافر ہوجائے گا(تفسیرات احمدیہ النحل تحت الایۃ: ۱۰۶ ص۵۰۱)۔([1]) [1] ۔۔۔کفریہ کلمات سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کیلئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔