Surah An Nahl Ayat 107 (16:107)
The Bee · Juz 14 · Makki
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ 107
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ عذاب اس لئے ہے کہ انہوں نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کوپسند کرلیا اور اس لئے کہ اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی اور اس لئے کہ اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا ۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك:یہ۔} یعنی جو لوگ دل کھول کر کافر ہوں ان کے لئے اللہ تعالی کے غضب اور بڑے عذاب کی وعید کا ایک سبب یہ ہے کہ انہوں نے اخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کوپسند کرلیا اور دنیا کی محبت ان کے کفر کا سبب ہے۔دوسرا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی ایسے کافروں کو ہدایت نہیں دیتاجو سمجھ بوجھ کے باوجود بھی کفر پر ڈٹے رہیں ۔( مدارک النحل تحت الایۃ: ۱۰۷ ص۶۱۰ خازن النحل تحت الایۃ: ۱۰۷ ۳ / ۱۴۵ ملتقطا) {اولىك الذین:یہی وہ لوگ ہیں ۔} یعنی یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کانوں اور آنکھو ں پر اللہ تعالی نے مہر لگا دی ہے نہ وہ غورو فکر کرتے ہیں نہ وعظ و نصیحت پرتوجہ دیتے ہیں نہ سیدھے اور ہدایت والے راستے کو دیکھتے ہیں اور یہی غفلت کی انتہا کوپہنچے ہوئے ہیں کہ اپنی عاقبت اور انجام کار کے بارے میں نہیں سوچتے۔( مدارک النحل تحت الایۃ: ۱۰۸ ص۶۱۰) {لا جرم:حقیقت میں ۔} یعنی حقیقت میں یہ لوگ اخرت میں برباد ہونے والے ہیں کہ ان کے لئے جہنم کادائمی عذاب ہے۔(جلالین النحل تحت الایۃ: ۱۰۹ ص۲۲۶) سب سے بڑی بد نصیبی اور خوش نصیبی: اس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی بد نصیبی دل کی غفلت ہے اور سب سے بڑی خوش نصیبی دل کی بیداری ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو غفلت سے محفوظ فرمائے اور ہمیں دل کی بیداری نصیب فرمائے ۔