Surah An Nahl Ayat 21 (16:21)
The Bee · Juz 14 · Makki
اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍۚ-وَ مَا یَشْعُرُوْنَۙ-اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبے جان ہیں زندہ نہیں ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمُردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
}اموات:بے جان ہیں {امام ابن ابی حاتم اور امام محمد بن جریر طبری رحمۃاللہ تعالی علیہما اس ایت کی تفسیر میں لکھتے ہیں’’یہ بت جن کی اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے بے جان ہیں ان میں روحیں نہیں اور نہ ہی یہ اپنی عبادت کرنے والوں کو کوئی نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم النحل تحت الایۃ: ۲۱ ۷ / ۲۲۸۰ تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۲۱ ۷ / ۵۷۳-۵۷۴) انہی بزرگوں کے حوالے سے امام جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ا س ایت کی یہی تفسیر در منثور میں رقم فرمائی ۔(در منثور النحل تحت الایۃ: ۲۱ ۵ / ۱۱۹) امام فخرالدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں’’جن بتوں کی کفار عبادت کرتے ہیں اگر یہ حقیقی معبود ہوتے تویہ اللہ تعالی کی طرح زندہ ہوتے انہیں کبھی موت نہ اتی حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ بے جان ہیں زندہ نہیں اور ان بتوں کو خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے تو ایسے مجبور بے جان اور بے علم معبود کیسے ہوسکتے ہیں۔(تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۲۱ ۷ / ۱۹۵ ملخصا) امام علی بن محمد رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنی کتاب تفسیر خازن میں فرماتے ہیں ’’اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اگر یہ بت معبود ہوتے جیسا کہ تمہارا گمان ہے تو یہ ضرور زندہ ہوتے انہیں کبھی موت نہ اتی کیونکہ جو معبود عبادت کا مستحق ہے وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہ ائے گی اور بت چونکہ مردہ ہیں زندہ نہیں لہذا یہ عبادت کے مستحق نہیں ۔(خازن النحل تحت الایۃ: ۲۱ ۳ / ۱۱۸)ان کے علاوہ دیگرتمام مستند تفاسیر جیسے تفسیر طبری تفسیر سمرقندی تفسیر بغوی تفسیر ابو سعود تفسیر قرطبی اورتفسیر صاوی وغیرہ میں صراحت ہے کہ اس ایت میں ’’اموات غیر احیآء‘‘سے مراد بت ہیں کسی بھی مستند مفسر نے ان ایات کا مصداق انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء رحمۃاللہ تعالی علیہم کو قرار نہیں دیا۔