Surah An Nahl Ayat 36 (16:36)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُؕ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللہ نے ہدایت دیدی اور کسی پر گمراہی ثابت ہوگئی تو تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہر امت میں سے ہم نے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد بعثنا فی كل امة رسولا:اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا ۔} یعنی جس طرح ہم نے تم میں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بھیجا اسی طرح ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا اور ہر رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے فرمائیں کہ اے لوگو!اللہ عزوجل کی عبادت کرو اور شیطان کی پیروی کرنے سے بچو تو ان امتوں میں کسی کو اللہ تعالی نے ہدایت دیدی تووہ ایمان سے مشرف ہوئے اور کسی پر علم الہی میں گمراہی ثابت ہوگئی تووہ اپنی ازلی شقاوت کی وجہ سے کفر پر مرے اور ایمان سے محروم رہے۔ اے کفار مکہ! تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے والوں کاکیسا انجام ہوا انہیں اللہ تعالی نے ہلاک کر دیا اور ان کے شہر ویران کر دئیے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں ان کی بربادی کی خبر دیتی ہیں اس کو دیکھ کر سمجھو کہ اگر تم بھی ان کی طرح کفر و تکذیب پر مصر رہے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونا ہے۔ (خازن النحل تحت الایۃ: ۳۶ ۳ / ۱۲۲ مدارک النحل تحت الایۃ: ۳۶ ص۵۹۵ جلالین النحل تحت الایۃ: ۳۶ ص۲۱۸ ملتقطا) اس ایت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ کسی نبی سے سب لوگوں نے ہدایت حاصل نہ کی جیسے سورج سے سب نور حاصل نہیں کرتے چمگادڑ محروم رہتا ہے بارش سے ہر زمین سرسبز نہیں ہوتی بنجر زمین بے فیض رہتی ہے تو اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر بعض بد بخت اپ پر ایمان نہیں لاتے تو اپ غمگین کیوں ہوتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ایت کے شروع میں جو یہ فرمایا گیا کہ ہر امت میں رسول بھیجا تو اس سے یہ مراد نہیں کہ ہر قبیلے یا ہر علاقے میں رسول بھیجا گیا بلکہ کسی جگہ رسول بھیجا گیا اور کسی جگہ اس کی رسالت کا پیغام پہنچا دیا گیا۔ ایت ’’ فسیروا فی الارض‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)… عذاب الہی اور قہر ربانی کا مشاہدہ کرنا ہو تو کفار کی بستیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور یونہی اگر رحمت الہی کا نظارہ کرنا ہو تو اولیائ اللہ کے استانے دیکھے جائیں ۔ (2)… تاریخ و جغرافیہ کا علم سیکھنا بہت مفید ہے کہ اس سے اللہ تعالی کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے لیکن یہ جب ہی ہے کہ تاریخ و جغرافیہ صحیح ہو اور صحیح نیت سے پڑھے۔