Surah An Nahl Ayat 4 (16:4)
The Bee · Juz 14 · Makki
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے انسان کو منی سے پیدا کیا پھر جبھی وہ کھلم کھلا جھگڑنے والا بن گیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے۔
Tafseer (Urdu)
{خلق الانسان من نطفة:اس نے انسان کو منی سے پیدا کیا۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت اور قدرت پر ایک اور دلیل ذکر فرمائی کہ اللہ تعالی نے انسان کو منی سے پیدا کیا جس میں نہ حس ہوتی ہے نہ حرکت اور اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرے سے عجیب وغریب مخلوق بنائی ماں کے پیٹ میں اس قطرے کو مختلف شکلوں میں ڈھالتا رہاپھر اس کی تخلیق پوری کرنے اورا س میں روح پھونکنے کے بعد اسے دنیا کی روشنی میں لے کر ایا اسے غذا اور رزق دیا اورا س کی پرورش کرتا رہا حتی کہ جب وہ اپنے قدموں پر چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے اپنے رب عزوجل کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اپنے پیدا کرنے والے کو ماننے سے انکار کر دیا اور ان بتوں کی عبادت کرنے میں مصروف ہوگیا جو اسے نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور یہ کہنے لگا کہ ’’من یحی العظام و هی رمیم‘‘یعنی ایسا کون ہے جو ہڈیوں کو زندہ کردے جبکہ وہ بالکل گلی ہوئی ہوں ۔ جبکہ وہ اس ہستی کو بھول گیا جس نے اسے گندے قطرے سے ایسی حسین شکل عطا کی تھی۔( تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۴ ۷ / ۵۵۹ بیضاوی النحل تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۳۸۶ ملتقطا) شان نزول: یہ آیت ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی یہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا ایک مرتبہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھالایا اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہنے لگا ’’ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالی اس ہڈی کو زندگی دے گا! اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (خازن النحل تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۱۱۳)اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عضو اور شکل رکھتی بھی ہے اللہ تعالی تو منی کے ایک چھوٹے سے بے حس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا جھگڑالو انسان پیدا کردیتا ہے یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا۔ علامہ صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں ابی بن خلف کا رد ہے اور ہر اس شخص کا بھی رد ہے جو ابی بن خلف کے طریقے کو اپنائے ہوئے ہے۔(صاوی النحل تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۱۰۵۶)