Surah An Nahl Ayat 47 (16:47)
The Bee · Juz 14 · Makki
اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍؕ-فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیا انہیں آہستہ آہستہ نقصان پہنچاتے ہوئے پکڑلے تو بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا انہیں نقصان دیتے دیتے گرفتار کرلے کہ بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{او یاخذهم:یا انہیں پکڑلے ۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی شروع سے ہی انہیں عذاب میں گرفتار نہیں کرے گا بلکہ پہلے انہیں خوف میں مبتلا کرے گا پھر اس کے بعدانہیں عذاب میں گرفتار کر دے گا۔ خوف میں مبتلا کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ تعالی ایک گروہ کو ہلاک کر دے گا تو اس کے قریب والے ا س خوف میں مبتلا ہو جائیں گے کہ کہیں ان پر بھی ویساہی عذاب نازل نہ ہو جائے۔ ایک طویل عرصہ تک وہ اس خوف اور وحشت میں مبتلا رہیں گے اس کے بعد ان پر عذاب نازل ہو گا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی ان پر فوراعذاب نازل نہیں کرے گا بلکہ ان کی جانوں اور مالوں کو تھوڑا تھوڑا کم کرتا رہے گا یہاں تک کہ سب ہلاک ہو جائیں گے ۔ (تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۴۷۷ / ۲۱۲-۲۱۳) {فان ربكم لرءوف رحیم:تو بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحمت والا ہے۔} یعنی اللہ تعالی چونکہ بہت مہربان اور رحمت والا ہے اس لئے وہ اکثر امور میں مہلت دے دیتا ہے ا ور عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں فرماتا۔(تفسیرکبیر النحل تحت الایۃ: ۴۷ ۷ / ۲۱۳)