Surah An Nahl Ayat 48 (16:48)
The Bee · Juz 14 · Makki
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں داہنے اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{او لم یروا:اور کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف منتقل ہونا اللہ تعالی کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے کیونکہ سایہ دائیں اور بائیں جھکنے میں اللہ تعالی کے حکم کا پابند اور اسی کا اطاعت گزار ہے اسی کے سامنے عاجز اور اسی کے اگے مسخر ہے اوراس میں اللہ تعالی کی قدرت کا کمال ظاہر ہے اور جب کفار سایہ دار چیزوں کا یہ حال اپنی انکھوں سے دیکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس میں غورو فکر کر کے عبرت و نصیحت حاصل کریں کہ سایہ و ہ چیز ہے جس میں عقلفہم اور سماعت کی صلاحیت نہیں رکھی گئی تو جب وہ اللہ تعالی کا اطاعت گزار ہے اور صرف اسی کو سجدہ کر رہا ہے تو انسان جسے عقلفہم اور سماعت کی صلاحیت دی گئی ہے اسے زیادہ چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور صرف اسی کے اگے سجدہ ریز ہو۔ (تفسیرسمرقندی النحل تحت الایۃ: ۴۸۲ / ۲۳۷ تاویلات اہل السنہ النحل تحت الایۃ: ۴۸ ۳ / ۸۹-۹۰ ملتقطا)