Surah An Nahl Ayat 52 (16:52)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًاؕ-اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور فرمانبرداری (کا حق)ہمیشہ اسی کیلئے ہے۔ توکیا تم اللہ کے سوا کسی اورسے ڈرو گے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرمانبرداری لازم ہے تو کیا اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے۔
Tafseer (Urdu)
{و له ما فی السموت و الارض:اورجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔} یعنی اسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک اللہ تعالی ہی ہے ان میں سے کسی چیز میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں اسی نے انہیں پیدا کیا وہی انہیں رزق دیتا ہے اسی کے دست قدرت میں ان کی زندگی اور موت ہے اور ہمیشہ کے لئے اطاعت و فرمانبرداری کا وہی مستحق ہے تو اے لوگو! کیا تم اللہ عزوجل کے سوا کسی اور سے خوف کھاوگے اور اس بات سے ڈرو گے کہ اگر تم نے صرف اپنے رب تعالی کی عبادت کی تو وہ تم سے اللہ تعالی کی نعمتیں چھین نہ لے۔(تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۵۲ ۷ / ۵۹۵-۵۹۶) یاد رہے کہ فرمانبرداری کا حق ہمیشہ اللہ تعالی کیلئے ہے اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنا والدین کی اطاعت کرنا اور اولی الامر کی اطاعت کرنا بھی درحقیقت اللہ تعالی ہی کی اطاعت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے۔(صاوی النحل تحت الایۃ: ۵۲ ۳ / ۱۰۷۲) حقیقی خوف صرف اللہ تعالی کا ہونا چاہئے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کے سلسلے میں دنیا کی نعمتیںسہولتیں اور اسائشیں چھن جانے کا خوف نہیں رکھنا چاہئے بلکہ اس معاملے میں صرف اس رب تعالی سے ڈرنا چاہئے جس کے دست قدرت میں سب نعمتیں ہیں اور جو تمام نعمتوں کا حقیقی مالک ہے ۔اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے احکام پر عمل کرنے میں اپنی دنیوی ترقی نہ ہونے معاشی خوشحالی نہ انے اور نفسانی خواہشات پوری نہ ہونے کاخوف کھاتے ہیں اور وہ ا س بات سے ڈرتے ہیں کہ نمازوں کی پابندی کرنے اور داڑھی رکھنے سے دنیا میں شہرت اور اچھی جگہ نوکری نہ ملے گی اور نہ ہی کوئی مالدار گھرانے والا انہیں رشتہ دینے کو تیار ہو گا یونہی اگر وہ سودی کاروبار اور رشوت کا لین دین نہ کریں اور کاروبار میں جھوٹ دھوکہ ملاوٹ اور خیانت سے کام نہ لیں تو وہ معاشی طور پر انتہائی پستی کا شکار ہو جائیں گے اسی طرح اگر وہ نیک صورت مسلمان نظر ائیں گے تو دنیا کی رنگین اور عیش و عشرت سے لبریز پارٹیوں سے لطف اندوز کس طرح ہو ں گے اور عیش و نشاط کے مزے کس طرح لوٹیں گے ۔ اے کاش !یہ لوگ ان چیزوں سے خوف کھانے اور ڈرنے کی بجائے اللہ تعالی کا خوف رکھتے اسی سے ڈرتے اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی انتہائی قلیل دنیوی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے تو اخرت میں ایسی عظیم اور دائمی نعمتیں پاتے جن کے اگے دنیا کی اعلی سے اعلی ترین نعمتوں کی ذرہ بھر بھی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ [1] [1] ۔۔۔ اللہ عزوجل کا خوف رکھنے سے متعلق مزید ترغیب پانے کے لئے کتاب’’خوف خدا‘‘(مطبوعہ مکتبہ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔