Surah An Nahl Ayat 72 (16:72)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِؕ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَ 72
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی تو کیاوہ باطل ہی پر یقین کرتے ہیں ؟ اور اللہ کے فضل ہی کے منکر ہوتے ہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی تو کیا جھوٹی بات پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے منکر ہوتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الله جعل لكم من انفسكم ازواجا:اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں ۔} یعنی اللہ تعالی نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں تاکہ تم ان سے انسیت حاصل کرو اور ان کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرو اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے جو ضرورت کے وقت تمہاری مدد کرتے ہیں اور اللہ تعالی نے تمہیں ستھری چیزوں یعنی طرح طرح کے غلوں پھلوں اورکھانے پینے کی چیزوں سے روز ی دی تو کیاوہ اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کے باوجود شرک اور بت پرستی پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ عزوجل کے احسان کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔( روح البیان النحل تحت الایۃ: ۷۲ ۵ / ۵۸ خازن النحل تحت الایۃ: ۷۲ ۳ / ۱۳۴ ملتقطا) اللہ تعالی کے فضل و نعمت سے کیا مراد ہے علامہ احمد بن محمود نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ایت میں اللہ تعالی کے فضل و نعمت سے مراد سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی ہے یا اس سے وہ نعمتیں مراد ہیں جو اللہ تعالی نے ان کے لئے حلال کیں۔( مدارک النحل تحت الایۃ: ۷۲ ص۶۰۲)