Surah An Nahl Ayat 96 (16:96)
The Bee · Juz 14 · Makki
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ-وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 96
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ما عندكم:جو تمہارے پاس ہے۔} یعنی تمہارے پاس جو دنیا کا سامان ہے یہ سب فنا اور ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالی کے پاس جو خزانہ رحمت اور اخرت کا ثواب ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو پچھلی ایت میں بیان فرمایا کہ جو اللہ عزوجل کے پاس ہے وہ تمہاری دنیوی کمائی سے بہتر ہے لہذا اپنے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے نہ توڑو۔ دنیا و اخرت کا موازنہ: امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جس شخص کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے وہ باقی ہے اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے(تو اس کے لئے باقی اور بہتر کے بدلے فانی اور ناقص کو بیچ دینا مشکل نہیں ہوتا )جس طرح برف کے مقابلے میں جواہر بہتر اور باقی رہنے والے ہیں اور برف کے مالک پر برف کو جواہر اور موتیوں کے بدلے میں بیچنا مشکل نہیں ہوتا اسی طرح دنیا اور آخرت کا معاملہ ہے دنیا اس برف کی طرح ہے جو دھوپ میں رکھی ہوئی ہو وہ ختم ہونے تک پگھلتی رہتی ہے اور آخرت اس جوہر کی طرح ہے جو فنا نہیں ہوتا لہذا دنیا اور آخرت کے درمیان تفاوت کے بارے میں جس قدر یقین اور معرفت مضبوط ہوگی اسی قدراس کا سودا کرنے اور معاملہ کرنے میں رغبت مضبوط ہوگی حتی کہ جس شخص کا یقین مضبوط ہوتا ہے وہ اپنے نفس اور مال دونو ں کو بیچ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم و اموالهم بان لهم الجنة‘‘(توبہ:۱۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے۔ پھر بتایا کہ انہیں اس سودے میں نفع ہواچنانچہ ارشاد فرمایا ’’فاستبشروا ببیعكم الذی بایعتم به‘‘(توبہ:۱۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:تو اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو سودا تم نے کیا ہے۔( احیاء علوم الدین کتاب الفقر والزہد الشطر الثانی من الکتاب فی الزہد بیان حقیقۃ الزہد ۴ / ۲۶۸) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دنیا کے فنا اور زائل ہو جانے اور اخرت کے ہمیشہ باقی رہنے میں خوب غورو فکر کرے اور اخرت کو دنیا پر ترجیح دے اور دنیا کی فانی نعمتوں اور لذتوں سے بے رغبتی اختیار کرے۔