Surah Al Isra Ayat 102 (17:102)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآىٕرَۚ-وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا 102
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرمایا: یقیناتو جان چکا ہے کہ ان نشانیوں کوعبرتیں کرکے آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے نازل فرمایا ہے اوراے فرعون! میں یہ گمان کرتاہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا یقیناً تو خوب جانتا ہے کہ انہیں نہ اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے مالک نے دل کی آنکھیں کھولنے والیاں اور میرے گمان میں تو اے فرعون تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال لقد علمت: فرمایا : یقینا تو جان چکا ہے۔} فرعون نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا تھا کہ اے موسی! میں تو یہ خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا ہوا ہے یعنی معاذاللہ جادو کے اثر سے تمہاری عقل اپنی جگہ پر نہیں رہی ہے یا یہاں مسحور ساحر کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ عجائب جو آپ دکھلاتے ہیں یہ جادو کے کرشمہ ہیں اس پر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے جواب دیا: اے فرعون! یقینا تو جان چکا ہے کہ ان نشانیوں کوعبرتیں بنا کر اسمانوں اور زمین کے رب عزوجل ہی نے نازل فرمایا ہے کیونکہ ان نشانیوں اور معجزات سے میری سچائی میراکامل العقل ہونا میرا جادوگر نہ ہونا اور ان نشانیوں کا خدا عزوجل کی طرف سے ہونا ظاہر ہے اور اے فرعون! میں یہ گمان کرتاہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۱-۱۰۲ ۳ / ۱۹۴ روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۱-۱۰۲ ۵ / ۲۰۸ ملتقطا) {فاراد: تو اس نے چاہا۔} یعنی فرعون نے چاہا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اور ان کی قوم کو سرزمین مصر سے نکال دے لیکن اللہ عزوجل نے فرعون کو اس کے ساتھیوں سمیت غرق کردیا اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اور ان کی قوم کو سلامتی عطا فرمائی۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۳ ۳ / ۱۹۵) {و قلنا: اور ہم نے فرمایا۔} فرعون کی غرقابی کے بعد اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اب تم اس سرزمین یعنی زمین مصرو شام میں سکونت اختیار کرو اور پھر جب قیامت ائے گی تو ہم تمہیں دوبارہ جمع کریں گے اور میدان قیامت میں پھر سعادت مندوں اور بدبختوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دیں گے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۴ ۳ / ۱۹۵)