Surah Al Isra Ayat 39 (17:39)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِؕ-وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ وحی کی اُن حکمت والی باتوں میں سے ہیں جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی ہیں اور اے سننے والے! تو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرا ،ورنہ تجھے ملامت زدہ ، مردود کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں اور اے سننے والے اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو جہنم میں پھینکا جائے گا طعنہ پاتا دھکے کھاتا۔
Tafseer (Urdu)
{من الحكمة: حکمت والی باتوں میں سے۔} ارشاد فرمایا کہ اس (رکوع )میں جو احکام دئیے گئے ہیں وہ حکمت والے احکام ہیں حکمت کا کام وہ ہے جس کی صحت پر عقل گواہی دے اور اس سے نفس کی اصلاح ہو یہاں ایت میں جو احکام دئیے گئے ہیں وہ سب کے سب پر از حکمت ہیں ۔ ان احکام کا خلاصہ یہ ہے: (1) اولاد کا قتل ناجائز و حرام ہے۔ (2) زنا کے قریب نہ جاو۔ (3) کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو۔ (4) یتیم کے مال میں خیانت سے بچو اور وقت پر اس کا مال اس کے حوالے کردو۔ (5) وعدہ پورا کرو۔ (6) ناپ تول میں کمی زیادتی نہ کرو۔ (7) بغیر تحقیق کے باتوں کے پیچھے نہ پڑو۔ (8) انکھ کان اور دل کی حفاظت کرو کہ ان کے متعلق سوال ہوگا۔ (9) زمین میں اترا کرنہ چلو۔ تکبر و خود نمائی اللہ عزوجل کو ناپسند اور عاجزی و انکساری پسند ہے۔ (10) شرک سے بچو۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان آیات کا حاصل توحید اور نیکیوں اور طاعتوں کا حکم دینا اور دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف رغبت دلانا ہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۱۷۵) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ یہ اٹھارہ آیتیں و لا تجعل مع الله الها اخر سے مدحورا تک حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تختیوں میں تھیں ان کی ابتدا توحید کے حکم سے ہوئی اور انتہا شرک کی ممانعت پر۔(مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۳۹ ص۶۲۴) اس سے معلوم ہوا کہ ہر حکمت کی اصل توحید و ایمان ہے اور کوئی قول و عمل اس کے بغیر قابل قبول نہیں۔