Surah Al Isra Ayat 57 (17:57)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗؕ-اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ مقبول بندے جن کی یہ کافر عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے ۔وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اولىك الذین یدعون: وہ جنہیں یہ پوجتے ہیں ۔} کفارکے بہت سے گروہ تھے۔ کوئی بتوں اور دیوی دیوتاوں کو پوجتا تھا اور کوئی فرشتوں کو یونہی عیسائی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہودیوں کا ایک گروہ حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو یونہی بہت سے لوگ ایسے جنوں کو پوجتے تھے جو اسلام قبول کرچکے تھے لیکن ان کے پوجنے والوں کو خبر نہ تھی تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان لوگوں کوشرم دلائی کہ اللہ عزوجل کے سوا جن مقربین بارگاہ الہی کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ تو خود اللہ عزوجل کی بارگاہ تک رسائی کیلئے وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے تاکہ جو سب سے زیادہ مقرب ہو اس کو وسیلہ بنائیں تو جب یہ مقربین بھی بارگاہ الہی تک رسائی کیلئے وسیلہ تلاش کرتے ہیں اور رحمت الہی کی امید رکھتے ہیں اور عذاب الہی سے ڈرتے ہیں تو کافر انہیں کس طرح معبود سمجھتے ہیں ۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۵۷ ۳ / ۱۷۸ ملتقطا) اللہ تعالی کے مقرب بندوں کو اس کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا جائز ہے: اس سے معلوم ہوا کہ مقرب بندوں کو بارگاہ الہی میں وسیلہ بنانا جائز اور اللہ عزوجل کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ ایت میں وسیلہ بنانے کا جوازبیان کیا گیا ہے اور شرک کا رد کیا گیا ہے۔ وسیلہ ماننے اور خدا ماننے میں زمین و اسمان کا فرق ہے جو وسیلے کو شرک کہے وہ اس ایت کے مطابق معاذاللہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی شرک کا مرتکب قرار دیتا ہے۔ اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے اقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کائنات کا سب سے بڑا وسیلہ ہیں کہ بارگاہ الہی میں سب سے مقرب وہی ہیں تو بقیہ سب انہیں کو وسیلہ بناتے ہیں اور اسی لئے میدان قیامت میں سب لوگ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں ہی جمع ہوکر حاضری دیں گے اور بارگاہ الہی میں سفارش کروائیں گے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں : ہم ہیں ان کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس سے بڑھ کر تری سمت اور وسیلہ کیا ہے ان کی امت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعوی کیا ہے صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے