Surah Al Isra Ayat 70 (17:70)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد كرمنا بنی ادم:اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی۔} یعنی انسان کوعقل علم قوت گویائی پاکیزہ صورت معتدل قد و قامت عطا کئے گئے جانوروں سے لے کر جہازوں تک کی سواریاں عطا فرمائیں نیز اللہ عزوجل نے انہیں دنیا و اخرت سنوارنے کی تدبیریں سکھائیں اور تمام چیزوں پر غلبہ عطا فرمایا قوت تسخیر بخشی کہ اج انسان زمین اور اس سے نیچے یونہی ہواوں بلکہ چاند تک کو تسخیر کرچکا ہے اور مریخ تک کی معلومات حاصل کرچکا ہے بحر و بر میں انسان نے اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں ۔ یہ چند ایک مثالیں ہیں ورنہ اس کے علاوہ لاکھوں چیزیں اولاد ادم کو عطا فرما کر اللہ عزوجل نے اسے عزت دی ہے اور انسان کو بقیہ تمام مخلوقات سے افضل بنایا ہے۔ {و رزقنهم:اور انہیں رزق دیا۔} یعنی لطیف اور خوش ذائقہ غذائیں دیں جو گوشت اور نباتات دونوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور جنہیں لوگ خوب اچھی طرح پکا کر کھاتے ہیں ۔پکی ہوئی غذا کھانا بھی انسان کا خاصہ ہے کیونکہ انسان کے سوا حیوانات میں پکی ہوئی غذا اور کسی کی خوراک نہیں ۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۰ ۳ / ۱۸۳) {و فضلنهم:اور انہیں فضیلت دی۔} ایت میں فرمایا گیا کہ ہم نے اولاد ادم کو اپنی کثیر مخلوق پر فضیلت دی ۔ امام حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ یہاں اکثر سے کل مراد ہے(یعنی اللہ تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی ہے) اور اکثر کا لفظ کل کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی ارشاد ہوا ’’و اكثرهم كذبون‘‘ اور’’و ما یتبـع اكثرهم الا ظنا‘‘ ان ایات میں اکثر کل ہی کے معنی میں ہے لہذا ملائکہ بھی اس ایت کے عموم میں داخل ہیں اور انسانوں کے خاص افراد یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام فرشتوں کے خاص افرادسے افضل ہیں اورنیک انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں ۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۰ ۳ / ۱۸۳ ملخصا) مومن کی عزت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن اللہ عزوجل کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔( شعب الایمان الثالث من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی معرفۃ الملائکۃ ۱ / ۱۷۴ الحدیث: ۱۵۲)اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتے اللہ تعالی کی بندگی پرمجبور ہیں کیونکہ ان کی فطرت ہی یہ ہے ان میں عقل توہے لیکن شہوت نہیں اور جانوروں میں شہوت ہے لیکن عقل نہیں جبکہ آدمی میں شہوت و عقل دونوں ہیں تو جس نے عقل کو شہوت پر غالب کیا وہ فرشتوں سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ جانوروں سے بدتر ہے۔( مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۷۰ ص۶۳۱)