Surah Al Isra Ayat 71 (17:71)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاد کروجس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{ یوم ندعوا: جس دن ہم بلائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے جس کی وہ دنیا میں پیروی کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: اس سے مراد وہ پیشوا ہے جس کی دعوت پر دنیا میں لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت دی ہو یا باطل کی۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۱ ۳ / ۱۸۳) خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی جس کے حکم پر دنیا میں چلتی رہی اور انہیں اسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں کے پیروکارو!۔(مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۷۱ ص۶۳۲ ملخصا) اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں صالحین کو ہی اپنا پیشوا بنانا چاہیے تاکہ قیامت میں انہی کے ساتھ حشر ہو۔ {فمن اوتی كتبه بیمینه:تو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔} یعنی نیک لوگ جو دنیا میں صاحب بصیرت تھے اور راہ راست پر چلتے رہے ان کو ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اس میں اپنی نیکیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو اس کو ذوق و شوق سے پڑھیں گے اور جو بدبخت ہیں کفار ہیں ان کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ انہیں دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور دہشت سے پوری طرح پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے۔ تو نیک لوگوں کے اعمال کے ثواب میں ادنی بھی کمی نہ کی جائے گی اور یونہی کفار کی سزا میں بھی کمی نہ ہوگی( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۷۱ ۵ / ۱۸۷-۱۸۸ جلالین الاسراء تحت الایۃ: ۷۱ ص۲۳۶ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۲ ۳ / ۱۸۴ ملتقطا) ہاں گناہگار مسلمانوں کی سزا میں کمی بھی ہوگی اور بہت بڑی تعداد کی معافی بھی۔ { اعمى: اندھا۔} ارشاد فرمایا کہ جودنیا کی زندگی میں ہدایت کا راستہ دیکھنے سے اندھا ہوگا وہ آخرت میں نجات کا راستہ دیکھنے سے بھی اندھا ہوگا بلکہ قیامت میں وہ اور بھی زیادہ گمراہ ہوگا۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۲ ۳ / ۱۸۴ ملخصا)