Surah Al Isra Ayat 73 (17:73)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ ﳓ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا 73
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کفار تو چاہتے تھے کہ تمہیں اس وحی سے ہٹا دیں جوہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے کہ تم ہمارے اوپر وحی سے ہٹ کر کوئی بات منسوب کر دو اور اس وقت وہ آپ کو گہرا دوست بنالیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دو ست بنالیتے ۔
Tafseer (Urdu)
{لیفتنونك: کہ تمہیں ہٹادیں ۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ اگر آپ تین باتیں منظور کرلیں تو ہم اپ کی بیعت کرلیں گے ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی طرف سے ہمیں ایسا اعزاز ملے جو دوسروں کو نہ ملا ہو تاکہ ہم فخر کر سکیں اور اس میں اگر آپ کو اندیشہ ہو کہ عرب کے دوسرے لوگ شکایت کریں گے تو آپ ان سے کہہ دیجئے گا کہ اللہ عزوجل کا حکم ہی ایسا تھا یعنی معاذاللہ اللہ عزوجل پر جھوٹ باندھ دیجئے گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر سمرقندی الاسراء تحت الایۃ: ۷۳ ۲ / ۲۷۸ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۷۳ ۳ / ۱۸۴ ملتقطا) اور بتا دیا گیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تربیت اور معاملات کی نگہبانی تو خود اللہ عزوجل فرماتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ عزوجل کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرسکیں ۔