Surah Al Isra Ayat 90 (17:90)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًا 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے کہا: ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے کہ ہم ہرگز تم پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو۔
Tafseer (Urdu)
{و قالوا: اور انہوں نے کہا۔} ایت کا شان نزول یہ ہے کہ جب قرآن کریم کا اعجاز خوب ظاہر ہوچکا اور واضح معجزات نے حجت قائم کردی اور کفار کے لئے عذر کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو وہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرنے لگے اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہم ہر گز آپ پر ایمان نہ لائیں گے چنانچہ مروی ہے کہ کفار قریش کے سردار کعبہ معظمہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بلوا یا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آج گفتگو کرکے آپ سے معاملہ طے کرلیں تاکہ ہم پھر آپ کے حق میں (کوئی بھی کاروائی کرنے میں ) معذور سمجھے جائیں ۔عرب میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم پر وہ شدتیں کی ہوں جو آپ نے کردی ہیں ۔ آپ نے ہمارے باپ دادا کو برا کہا ہمارے دین کو عیب لگائے ہمارے دانش مندوں کو کم عقل ٹھہرایا ہمارے معبودوں کی توہین کی ہماری جماعت متفرق کردی اور کوئی برائی اٹھا نہ رکھی یعنی سب کچھ اپ نے کیا۔ یہ بتاو کہ اس سے تمہاری غرض کیا ہے اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں کہ ہماری قوم میں تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ اور اگر اعزاز چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنالیں اور اگر ملک و سلطنت چاہتے ہو تو ہم تمہیں بادشاہ تسلیم کرلیں یہ سب باتیں کرنے کے لئے ہم تیار ہیں اور اگر تمہیں کوئی دماغی بیماری ہوگئی ہے یا کوئی خلش ہوگیا ہے تو ہم تمہارا علاج کریں اور اس میں جس قدر خرچ ہو اٹھائیں ۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’ان میں سے کوئی بات نہیں اور میں مال سلطنت اور سرداری کسی چیز کا طلب گار نہیں ۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور حکم دیا کہ میں تمہیں اس کے ماننے پر اللہ عزوجل کی رضا اور نعمت آخرت کی بشارت دوں اور انکار کرنے پر عذاب الہی کا خوف دلاؤں ۔ میں نے تمہیں اپنے رب عزوجل کا پیغام پہنچایا ہے۔ اگر تم اسے قبول کرو تو یہ تمہارے لئے دنیاو آخرت کی خوش نصیبی ہے اور نہ مانو تو میں صبر کروں گا اور اللہ عزوجل کے فیصلہ کا انتظار کروں گا ۔اس پر ان لوگوں نے کہا :اے محمد! (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) اگر اپ ہمارے معروضات کو قبول نہیں کرتے ہیں تو ان پہاڑوں کو ہٹا دیجئے اور میدان صاف نکال دیجئے اور نہریں جاری کر دیجئے اور ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے۔ ہم ان سے پوچھ دیکھیں کہ اپ جو فرماتے ہیں کیا وہ سچ ہے اگر وہ کہہ دیں گے تو ہم مان لیں گے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’ میں ان باتوں کے لئے نہیں بھیجا گیا اور جو پہنچانے کے لئے میں بھیجاگیا تھا وہ میں نے پہنچا دیا اگر تم مانو توتمہارا نصیب اور نہ مانو تو میں خدائی فیصلے کا انتظار کروں گا ۔ کفار نے کہا: پھر اپ اپنے رب سے عرض کر کے ایک فرشتہ بلوا لیجئے جو اپ کی تصدیق کرے اور اپنے لئے باغ محل اور سو نے چاندی کے خزانے طلب کیجئے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں بشیرو نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس پر وہ لوگ کہنے لگے :تو ہم پراسمان گروا دیجئے اور ان میں سے بعض یہ بولے کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک اپ اللہ عزوجل کو اور فرشتوں کو ہمارے پاس نہ لایئے ۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس مجلس سے اٹھ ائے اور عبداللہ بن امیہ اپ کے ساتھ اٹھا اور اپ سے کہنے لگا: خدا کی قسم! میں کبھی ایمان نہ لاوں گا جب تک اپ سیڑھی لگا اسمان پر نہ چڑھو اور میری نظروں کے سامنے وہاں سے ایک کتاب اور فرشتوں کی ایک جماعت لے کرنہ او اور خدا کی قسم! اگریہ بھی کروتو میں سمجھتا ہوں کہ میں پھر بھی نہ مانوں گا۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اس قدر ضد او ر عنا د میں ہیں اور ان کی حق سے دشمنی حد سے گزر گئی ہے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوان کی حالت پر رنج ہوا اس پر ایت کریمہ نازل ہوئی۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۹۰ ۳ / ۱۹۱-۱۹۲) {قل سبحان ربی: تم فرماو میرا رب پاک ہے۔} کفار کے تمام مطالبات کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایک ہی جواب دینے کا ارشاد فرمایا گیا کہ اپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام اللہ عزوجل کا پیغام پہنچا دینا ہے وہ میں نے پہنچا دیا ہے اور جس قدر معجزات و آیات یقین و اطمینان کے لئے درکار ہیں ان سے بہت زیادہ میرا پروردگار عزوجل ظاہر فرما چکا لہذا حجت پوری ہوچکی ہے ۔ اب یہ سمجھ لو کہ رسول کے انکار کرنے اور آیات الہیہ سے مکرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔