Surah Al Kahf Ayat 103 (18:103)
The Cave · Juz 16 · Makki
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاﭤ 103
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے عمل کرنے میں مشقتیں اٹھائیں اور یہ امید کرتے رہے کہ ان اعمال پر فضل و عطا سے نوازے جائیں گے مگر ا س کی بجائے ہلاکت و بربادی میں جا پڑے ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا وہ لوگ یہودی اور عیسائی ہیں ۔بعض مفسرین نے کہا کہ وہ راہب لوگ ہیں جو گرجوں میں خلوت نشین رہتے تھے ۔ حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ یہ لوگ اہل حروراء یعنی خارجی لوگ ہیں ۔( خازن الکہف تحت الایۃ: ۱۰۳ ۳ / ۲۲۷ روح البیان الکہف تحت الایۃ: ۱۰۳ ۵ / ۳۰۴ ملتقطا)اورحقیقت میں سب ایک ہی مفہوم کی مختلف تعبیریں ہیں کیونکہ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو عبادت یا ظاہری اچھے اعمال میں محنت و مشقت تو کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ کسی ایسی چیز کا مرتکب بھی ہوتا ہے جس سے اس کا عمل مردود ہوجائے جیسے کفر۔ ظاہری اعمال اچھے ہونا حق پر ہونے کی دلیل نہیں : اس سے اشارۃ یہ معلوم ہو اکہ کسی کے ظاہری اعمال اچھے ہونا اس کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں اور صحیح بخاری میں تو خارجیو ں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے یہ قران پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام ۲ / ۵۰۳ الحدیث: ۳۶۱۰) خارجیوں کا مختصر تعارف : خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذوالخویصرہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کر کے اپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور ا س کے ساتھیوں کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت قران میں مشغولیت دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بھی حیران ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کاایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو بھی معاذ اللہ مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر اپ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے جنگ کی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضتتقوی و طہارت اور رات رات بھر تلاوت قران کرنے کو خاطر میں نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں رقت انگیز اور درد بھری اواز میں قران مجید کی تلاوتیں اللہ تعالی کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک ا س کے عقائد درست نہ ہوں لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرت عبادت تقوی و طہارت اور دیگر نیک نظر انے والی چیزوں سے ہر گزمتاثر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دورہی رہے کہ اسی میں اس کی دنیا واخرت کی بھلائی ہے۔