Surah Al Kahf Ayat 105 (18:105)
The Cave · Juz 16 · Makki
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے ۔
Tafseer (Urdu)
{اولىك:یہ لوگ۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر نیک اعمال کے باوجود خسارے کاشکار ہونے والے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب عزوجل کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا رسول اور قرآن پر ایمان نہ لائے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے حساب ثواب اور عذاب کے منکر رہے تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے اور انہیں ان اعمال پر کوئی ثواب نہ ملے گا۔( روح البیان الکہف تحت الایۃ: ۱۰۵ ۵ / ۳۰۵ خازن الکہف تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۲۲۷ ملتقطا) {فلا نقیم لهم یوم القیمة وزنا:پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔} وزن قائم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کے ظاہری نیک اعمال کی کوئی قدر وقیمت ہو گی اور نہ ہی ان میں کوئی وزن ہو گا اور جب میزان عمل میں ان کے ظاہری نیک اعمال اور کفر و معصیت کا وزن ہو گا تو تمام ظاہری نیک اعمال بے وزن ثابت ہوں گے کیونکہ نیک اعمال کی قدر و قیمت اور ان میں وز ن کا دار ومدار ایمان اور اخلاص پر ہے اور جب یہ لوگ ایمان اور اخلاص سے ہی خالی ہیں تو ان کے اعمال میں وزن کہاں سے ہو گا۔ کفار کے اعمال کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’و قدمنا الى ما عملوا من عمل فجعلنه هبآء منثورا‘‘(فرقان:۲۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کیطرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر اتے ہیں ۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ایک بہت ہی موٹے تازے ادمی کو جب اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا تو ( اتنا بھاری بھر کم ہونے کے باوجود) اللہ تعالی کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا اور فرمایا کہ یہ ایت پڑھ لو ’’فلا نقیم لهم یوم القیمة وزنا‘‘ ترجمہ کنزالعرفان:پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔( بخاری کتاب التفسیر باب اولئک الذین کفروا بایات ربہم ولقائہ فحبطت اعمالہم ۳ / ۲۷۰ الحدیث: ۴۷۲۹) اعمال میں وزن سے محروم ہونے والے لوگ: یاد رہے کہ کافروں کے ظاہری نیک اعمال تو قیامت کے دن بے وزن ہی ہوں گے البتہ بعض مسلمان بھی ایسے ہوں گے جو اپنے نیک اعمال میں وزن سے محروم ہو جائیں گے جیسا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں اپنی امت میں سے ان قوموں کو جانتا ہوں کہ جب وہ قیامت کے دن ائیں گے تو ان کی نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن اللہ تعالی انہیں روشندان سے نظر انے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے سامنے ان لوگوں کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم معلومات نہ ہوتے ہوئے ان لوگوں میں شریک نہ ہو جائیں ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ تمہارے بھائی تمہارے ہم قوم ہوں گے ۔ راتوں کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں گے لیکن وہ لوگ تنہائی میں برے افعال کے مرتکب ہوں گے۔( ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر الذنوب ۴ / ۴۸۹ الحدیث: ۴۲۴۵) اور حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ازاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ائیں گے کہ ان کے پاس تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں ہو ں گی یہاں تک کہ جب انہیں لایا جائے گا تو اللہ تعالی ان کے اعمال کو روشندان سے نظر انے والےغبار کے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت سالم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے ماں باپ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر قربان ہو جائیں ! ہمیں ان لوگوں کا حال بتا دیجئے ارشاد فرمایا ’’وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں گے روزے رکھتے ہوں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیز پیش کی جائے تو وہ اس پر کود پڑیں گے تو اللہ تعالی ان کے اعمال باطل فرما دے گا۔( حلیۃ الاولیا سالم مولی ابی حذیفۃ ۱ / ۱۳۳ الحدیث: ۵۷۵) اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض لوگ ایسے اعمال لائیں گے جو ان کے خیالوں میں مکہ مکرمہ کے پہاڑوں سے زیادہ بڑے ہوں گے لیکن جب وہ تولے جائیں گے تو ان میں وزن کچھ نہ ہوگا۔( خازن الکہف تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۲۲۷)