Surah Al Kahf Ayat 39 (18:39)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ-اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًا 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہتا: (یہ سب وہ ہے) جو اللہ نے چاہا، ساری قوت اللہ کی مدد سے ہی ہے۔ اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم دیکھ رہا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا۔
Tafseer (Urdu)
{قلت ما شآء الله:تو کہتا: جو اللہ نے چاہا۔} مسلمان نے اس کافر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ تو اس سارے باغ اور اسباب پر اللہ عزوجل کی قدرت و نعمت کا معترف ہوتا اور اگر توباغ دیکھ کر ماشاء اللہ کہتا اور اعتراف کرتا کہ یہ باغ اور اس کے تمام محاصل و منافع اللہ تعالی کی مشیت اور اس کے فضل وکرم سے ہیں اور سب کچھ اس کےاختیار میں ہے چاہے اس کو آباد رکھے اور چاہے ویران کرے ایسا کہتا تو یہ تیرے حق میں بہتر ہوتا ۔اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم سمجھ رہا تھا اور اس وجہ سے تکبر میں مبتلا تھا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا توتو نے ایسا کیوں نہیں کہا جو اوپر بیان ہوا۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۲۱۱ ملخصا خازن الکھف تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۲۱۱ ملخصا) مسلمان اور کافر کا فرق: یہاں سے مسلمان اور کافر کا فرق واضح ہوا کہ کافر اپنے مال و دولت اور کامیابی کو اپنی کوششوں کا نتیجہ سمجھتا ہے جبکہ مسلمان اپنی ہر کامیابی کو اللہ عزوجل کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرتا ہے اور یہی توکل ہے کہ اسباب تواختیار کئے جائیں لیکن نتیجہ اور ثمرہ کی توقع اللہ عزوجل سے کی جائے اور موثر حقیقی اسی کی ذات کو سمجھا جائے۔ افات سے بچنے کا وظیفہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص کوئی پسندیدہ چیز دیکھ کر ’’ ما شآء الله-لا قوة الا بالله‘‘ کہے تو اسے نگاہ نقصان نہیں پہنچائے گی۔( کنز العمال کتاب السحر والعین والکہانۃ قسم الاقوال الفصل الثانی ۳ / ۳۱۶ الحدیث: ۱۷۶۶۶ الجزء السادس) حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ چاہے کہ نعمت باقی رہے تو وہ کثرت سے ’’لا حول ولاقوۃ الا باللہ‘‘ کہے پھر حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی ’’ و لو لا اذ دخلت جنتك قلت ما شآء الله-لا قوة الا بالله‘‘(معجم الاوسط باب الالف من اسمہ احمد ۱ / ۵۸ الحدیث: ۱۵۵)