Surah Al Kahf Ayat 67 (18:67)
The Cave · Juz 15 · Makki
قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا 67
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجواب دیا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{قال:کہا۔} حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کوکچھ ناپسندیدہ اور ممنوع کام دیکھنا پڑیں گے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ممنوع کام دیکھ کر صبر کرسکیں ۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۶۷ ۳ / ۲۱۹) {و كیف تصبر:اور اپ کس طرح صبر کریں گے۔} حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس ترک صبر کا عذر بھی خود ہی بیان فرما دیا اور فرمایا ’’ اور اپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں اور ظاہر میں وہ ممنوع ہیں ۔(خازن الکھف تحت الایۃ: ۶۸ ۳ / ۲۱۹ مدارک الکھف تحت الایۃ: ۶۸ ص۶۵۸ ملتقطا) حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا علم: حدیث شریف میں ہے کہ حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا کہ ایک علم اللہ تعالی نے مجھ کو ایسا عطا فرمایا جو آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو ایسا عطا فرمایا جو میں نہیں جانتا۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ الکہف باب واذ قال موسی لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین۔۔۔ الخ ۳ / ۲۶۵ الحدیث: ۴۷۲۵) مفسرین و محدثین کہتے ہیں کہ جو علم حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے لئے خاص فرمایا وہ باطن اور مکاشفہ کا ہے اور یہ اہل کمال کے لئے باعث فضل ہے۔( جمل الکھف تحت الایۃ: ۶۸ ۴ / ۴۴۱)