Surah Maryam Ayat 22 (19:22)
Mary · Juz 16 · Makki
فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر مریم حاملہ ہوگئیں تواسے لے کر ایک دور کی جگہ چلی گئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی۔
Tafseer (Urdu)
{فحملته فانتبذت به مكانا قصیا:پھر مریم حاملہ ہوگئیں تواسے لے کر ایک دور کی جگہ چلی گئی۔} جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کوحمل کے اثار ظاہر ہوئے تو اللہ عزوجل نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکو الہام کیا کہ وہ اپنی قوم سے علیحدہ چلی جائیں اس لئے وہ بیت اللحم میں چلی گئیں ۔ یوسف نجار کے سوال کا جواب: منقول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکے حمل کا علم ہواوہ ان کا چچا زاد بھائی یوسف نجار تھا جو مسجد بیت المقدس کا خادم تھا اور بہت بڑا عابد شخص تھا ۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا حاملہ ہیں تواسے نہایت حیرت ہوئی ۔ وہ جب چاہتا کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگائے تو ان کی عبادت و تقوی ان کا ہر وقت کا حاضر رہنا اور کسی وقت غائب نہ ہونا یاد کرکے خاموش ہوجاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تو ان کو بری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ۔ بالاخر اس نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تاکہ میرے دل کی پریشانی رفع ہو۔ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہانے کہا کہ اچھی بات کہو۔ تو اس نے کہا کہ اے مریم! رضی اللہ تعالی عنہا مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر بیج کے اور درخت بغیر بارش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہوسکتا ہے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہانے فرمایا کہ ہاں کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی وہ بغیربیج ہی کے پیدا کی اور درخت اپنی قدرت سے بغیر بارش کے اگائے کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالی پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں یوسف نے کہا :میں یہ تو نہیں کہتا بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ عزوجل ہر شے پر قادر ہے جسے کن فرمائے وہ ہوجاتی ہے۔ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی بیوی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکے اس کلام سے یوسف کا شبہ رفع ہوگیا اور حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا حمل کے سبب سے ضعیف ہوگئیں تھیں اس لئے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کی نیابت کے طور پر مسجد کی خدمت وہ سر انجام دینے لگا۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۲۲۳ / ۲۳۲) تمام مخلوقات کو پہلی بار اللہ تعالی نے پیدا کیا: یاد رہے کہ اللہ تعالی نے کائنات میں جتنی مخلوقات پیدا فرمائیں ان تمام کی پہلی بار پیدائش اس نے اپنی قدرت کاملہ سے فرمائی اور اس کے بعد جن مخلوقات کی افزائش منظور تھی ان کی افزائش کے لئے ظاہری اسباب مقرر فرمائے اور ان اسباب کے ذریعے مخلوقات کی افزائش ہوئی نیز اسباب مقرر کرنے کے بعد بھی اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے اظہار کے لئے بعض مخلوقات کو ان کے ظاہری سبب کے بغیر پیدا فرمایا جیسے حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی پسلی سے پیدا فرما یا اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ کائنات میں اشیاء کے پہلی بار وجود میں انے سے متعلق یہ وہ معتدل نظریہ ہے جو عقل اور شریعت کے عین موافق ہے جبکہ اس کے برعکس دہریوں کے نظریات عقل و نظر کے صریح مخالف ہیں کہ ان کے نظریات کی رو سے کسی شے کی کوئی ابتداء بنتی ہی نظر نہیں اتی۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالی کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزوں میں غورو فکر کرنا اور ان چیزوں میں اللہ تعالی کی قدرت کے دلائل تلاش کرنے کے لئے تحقیق اور جستجو کرنا بہت عمدہ کام ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالی کی قدرت دلائل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے اور یوں کفار کے لئے اللہ تعالی کی قدرت اور ا س کی وحدانیت کا اعتراف کرنے اور اللہ تعالی پر ایمان لانے کی راہیں کھلتی ہیں اور مسلمانوں کا اپنے رب تعالی پر ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے۔