Surah Maryam Ayat 39 (19:39)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اورنہیں مانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں مانتے۔
Tafseer (Urdu)
{وانذرهم یوم الحسرة:اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈراو۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کافروں کو اس دن سے ڈرائیں جس میں لوگ حسرت کریں گے غمزدہ ہوں گے اور نیک و بد تمام لوگ پچھتائیں گے اور اس دن اس طرح فیصلہ کر دیا جائے گا کہ جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں پہنچا کر موت کو بھی ذبح کردیا جائے گا کہ اب ہر شخص ہمیشہ کیلئے اپنی جگہ رہے اور کسی کو موت نہ ائے انہیں ایسا سخت دن درپیش ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس دن کے لئے کچھ فکر نہیں کرتے اور نہ ہی اس دن کومانتے ہیں ۔(روح البیان مریم تحت الایۃ: ۳۹ ۵ / ۳۳۵ مدارک مریم تحت الایۃ: ۳۹ ص۶۷۴ ملتقطا) قیامت کے دن کی اس کیفیت کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’(جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں رہ جائیں گے تو) موت کوایک سرمئی مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گا اسے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا : اے اہل جنت! پس وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا: کیاتم اسے جانتے ہو وہ کہیں گے: ہاں ! جانتے ہیں یہ تو موت ہے (کیونکہ سب اسے مرتے وقت دیکھ چکے ہوں گے) پھر کہا جائے گا: اے دوزخیو! کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ جھانک کر دیکھیں گے اور کہیں گے :ہاں یہ موت ہے۔ پھر موت (کے مینڈھے) کوذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا (اور اسے ذبح کر کے) کہا جائے گا: اے اہل جنت! تمہیں ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اور (اس میں کسی کے لئے) موت نہیں ہوگی ۔ اے اہل جہنم!تم نے دوزخ میں ہمیشہ رہنا ہے اور اب تمہیں موت نہیں ائے گی۔ پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی: ’’و انذرهم یوم الحسرة اذ قضی الامر-و هم فی غفلة و هم لا یؤمنون‘‘ ترجمہ کنز العرفان: اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈراو جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اورنہیں مانتے۔‘‘ اور ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا (کہ دنیا کا شیدائی غفلت میں ہے)۔(مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا باب النار یدخلہا الجبارون۔۔۔ الخ ص۱۵۲۶ الحدیث: ۴۰(۲۸۴۹)) اخروی تیاری کی ترغیب: اس ایت میں قیامت کے دن کے بارے میں ارشاد ہوا کہ وہ ایسا دن ہے جس میں لوگ حسرت کریں گے اور پچھتائیں گے اور لوگوں کا حال بیان ہو اکہ وہ اس دن کی تیاری سے غافل ہیں اور اس دن کو ماننے پر تیار نہیں ان کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’ قد خسر الذین كذبوا بلقآء الله-حتى اذا جآءتهم الساعة بغتة قالوا یحسرتنا على ما فرطنا فیها-و هم یحملون اوزارهم على ظهورهم-الا سآء ما یزرون‘‘(انعام:۳۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ان لوگوں نے نقصان اٹھایا جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان پر اچانک قیامت آئے گی تو کہیں گے : ہائے افسوس اس پر جو ہم نے اس کےماننے میں کوتاہی کی اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے ۔خبرداروہ کتنا برا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔ اوران کاانجام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ’’ان الذین لا یرجون لقآءنا و رضوا بالحیوة الدنیا و اطمانوا بها و الذین هم عن ایتنا غفلون(۷) اولىك ماوىهم النار بما كانوا یكسبون‘‘ (یونس: ۷۸) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ۔ ان لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کے بدلے میں دوزخ ہے۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ حسرت و پچھتاوے اور عذاب کا دن انے سے پہلے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کر لے اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت میں اپنی زندگی بسر کرنا شروع کر دے اور قران مجید میں اللہ تعالی نے جو احکامات دئیے ان کی پیروی میں لگ جائے چنانچہ اسی چیز کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و انیبوا الى ربكم و اسلموا له من قبل ان یاتیكم العذاب ثم لا تنصرون(۵۴)و اتبعوا احسن ما انزل الیكم من ربكم من قبل ان یاتیكم العذاب بغتة و انتم لا تشعرون(۵۵) ان تقول نفس یحسرتى على ما فرطت فی جنب الله و ان كنت لمن السخرین‘‘(زمر۵۴۔۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپنے رب کی طرف رجوع کرواور اس وقت سے پہلے اس کے حضور گردن رکھو کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی)نہ ہو۔(پھر ایسا نہ ہو)کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اپنی اخروی تیاری کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔