Surah Maryam Ayat 40 (19:40)
Mary · Juz 16 · Makki
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور ہماری ہی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے ۔
Tafseer (Urdu)
{انا نحن نرث الارض و من علیها:بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس وقت سب کچھ فنا ہو جائے گا اور میری ذات کے سوا کوئی باقی رہے گا نہ کسی کی ظاہری ملکیت باقی ہو گی( اور جب لوگوں کو زندہ کیا جائے گا تو )انہیں ہماری ہی طرف لوٹایا جائے گا اور ہم انہیں ان کے اعمال کی جزا دیں گے۔( مدارک مریم تحت الایۃ: ۴۰ ص۶۷۴) گناہگاروں کے لئے مقام خوف: اس ایت میں گناہگاروں کے لئے عظیم ڈر اور تنبیہ ہے کہ دنیامیں انہوں نے جس رب تعالی کی نافرمانیاں کی ہیں اور ا س کے دئیے ہوئے احکامات کو پامال کیا ہے قیامت کے دن انہیں اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا تو گناہگار لوگ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی جزا پر خود ہی غور کر لیں کہ وہ کیا ہو گیاگر اللہ تعالی نے ان پر اپنا رحم نہ فرمایا اور ان کے گناہوں کو نہ بخشا تو انہیں جہنم کے انتہائی دردناک عذابات سہنے پڑیں گےلہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حساب کے لئے پیش ہونے سے پہلے پہلے اپنے اعمال کی اصلاح کر لے تاکہ اسے اللہ تعالی کی بارگاہ سے اچھی جزا ملے۔