Surah Maryam Ayat 41 (19:41)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ۬ؕ-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر فی الكتب ابرهیم:اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔} امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس سورت کا (بنیادی) مقصد توحید رسالت اور حشر کو بیان کرنا ہے اور توحید کا انکار کرنے والے وہ لوگ تھے جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو(اپنا) معبود مانتے تھے پھر ان لوگوں کے بھی دو گروہ تھے ایک گروہ زندہ اور عقل و فہم رکھنے والے انسان کو معبود مانتا تھا اور یہ عیسائیوں کا گروہ ہے اور ایک گروہ بے جان اور عقل و فہم نہ رکھنے والی جمادات کو معبود مانتا تھا اور یہ بتوں کے پجاریوں کا گروہ ہے اور یہ دونوں گروہ اگرچہ گمراہی میں مشترک تھے لیکن دوسرا گروہ (پہلے کے مقابلے میں) زیادہ گمراہ تھا چنانچہ اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے پہلے گروہ کی گمراہی بیان فرمائی اور اب یہاں سے دوسرے گروہ کی گمراہی بیان فرما رہا ہے چنانچہ جب حضرت زکریا اور حضرت عیسی علیہما الصلوۃ والسلام کے واقعے کا اختتا م ہوا تو گویا کہ ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ نے حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کا حال ذکر کردیا اور اب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حال بیان کریں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حال بیان کرنے کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ اس بات سے واقف تھے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کی قوم اور اپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کتابوں کا مطالعہ کرنے اور پڑھنے لکھنے میں مشغول نہ تھے تو جب اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ واقعہ کسی کمی زیادتی کے بغیر جیسا واقع ہوا تھا ویسا ہی بیان کر دیا تو یہ غیب کی خبر ہوئی اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم(کاغیب کی خبر دینا اپ) کی نبوت کی دلیل اور اپ کا معجزہ ہوا۔(تفسیرکبیر مریم تحت الایۃ: ۴۱ ۷ / ۵۴۱) یہاں بطور خاص حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عرب کےمشرکین اپنے اپ کوملت ابراہیمی کے پیروکار کہتے تھے اس میں انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگرتم ملت ابراہیمی کے پیروکار ہو توبتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام توبتوں کی پوجانہیں کرتے تھے بلکہ وہ تو اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس میں کسی کوشریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ اگرتم ملت ابراہیمی پرقائم ہو توان کے دین کواپناؤ اور بت پرستی چھوڑو۔ {انه كان صدیقا نبیا:بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔} ایت کے اس حصے میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی صفات بیان کی جارہی ہیں کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ سچ بولتے تھے اور نبوت کے مرتبے پر بھی فائز تھے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیر التصدیق یعنی جو اللہ تعالی اور اس کی وحدانیت کی اس کے انبیاء اور اس کے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی اور مرنے کے بعد اٹھنے کی تصدیق کرے اور احکام الہیہ بجالائے وہ صدیق ہے۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۴۱ ۳ / ۲۳۶) یاد رہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے ہونے کے وصف کو بطور خاص بیان کرنے کی یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ بعض لوگوں کو چند واقعات کی وجہ سے شبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ان مواقع پر حقیقت کے مطابق نہیں تھا۔ ان کی تفہیم کیلئے بطور خاص اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا فرمایا گیا۔ مقام صدیق اور مقام نبوت میں فرق: یہاں ایت کی مناسبت سے صدیق اور نبی میں اور صدیق اور ولی میں فرق ملاحظہ ہو چنانچہ علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ہر نبی صدیق ہے لیکن اس کا عکس نہیں (یعنی ہر صدیق نبی نہیں اسی طرح) ہر صدیق ولی ہے لیکن اس کا عکس نہیں (یعنی ہر ولی صدیق نہیں ) کیونکہ صدیقیت کا مرتبہ نبوت کے مرتبے کے نیچے (اور ا س کے قریب ) ہے۔( صاوی مریم تحت الایۃ: ۴۱ ۴ / ۱۲۳۷) اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء اور رسل علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد انسانوں میں سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے کیونکہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ انبیاء اور رسل علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد صدیقیت کے سب سے اعلی مقام پر فائز ہیں ۔