Surah Maryam Ayat 42 (19:42)
Mary · Juz 16 · Makki
اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْــٴًـا 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ قال لابیه یابت لم تعبد:جب اپنے باپ سے فرمایا: اے میرے باپ! تم کیوں ایسے کی عبادت کررہے ہو۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بت پرست (عرفی) باپ ازر سے فرمایا ’’ عبادت معبود کی انتہائی تعظیم ہے اور اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو اوصاف وکمال والا اور نعمتیں دینے والا ہو اور وہ صرف اللہ تعالی ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس لئے عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے جبکہ تم جن بتوں کی عبادت کررہے ہو ان کا حال یہ ہے کہ یہ نہ توسنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی تمہارے کسی کام اسکتے ہیں بلکہ یہ خود تمہارے محتاج ہیں کہ اپنی جگہ سے دوسری جگہ بھی نہیں جاسکتے اور تم نے خود انہیں اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے تو ایسی ناکارہ اور لاچار مخلوق کی عبادت کرنا اور اس کے سامنے اپنا سرجھکانا اور اس سے کسی بھی قسم کے نفع نقصان کی امید رکھنا انتہائی حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا باپ تھا یا چچا قران پاک میں کئی مقامات پر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے والد کوتوحید کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع کیا اور سورہ انعام کی ایت نمبر 74 میں اس کا نام ازر بھی مذکور ہے اب حل طلب معاملہ یہ ہے کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حقیقی باپ تھا یا نہیں چنانچہ اس کے بارے مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض مفسرین کے نزدیک ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حقیقی باپ تھا بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا نام تارح ہے اور اس کا لقب ازر ہے بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قومی زبان میں ان کے باپ کا نام تارخ تھا اور دوسری زبانوں میں تارخ کو ازر بولا جاتا تھا بعض کہتے ہیں کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے باپ کا نام نہیں بلکہ قوم کے بڑے بت کا نام ازر تھا اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا نام تارخ تھا جبکہ ازر اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا کا نام تھا اور بڑوں کی یہ عادت معروف تھی کہ وہ چچا کو باپ کہہ کر پکارتے تھے۔ اور یہ اخری بات ہی درست ہے کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حقیقی باپ نہیں بلکہ چچا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نور پاک لوگوں کی پشتوں سے پاک عورتوں کے رحموں کی طرف منتقل ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اباو اجداد سے ہیں اس لئے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے حقیقی والد کفرو شرک کی نجاست سے الودہ کیسے ہو سکتے ہیں چنانچہ علامہ شہاب الدین محمود الوسی بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ علماء اہلسنت میں سے ایک جم غفیر کی رائے یہ ہے کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا والد نہ تھا کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اباو اجداد میں کوئی کافر نہ تھا جیساکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ میں ابتداہی سے اخر تک پاک لوگوں کی پشتوں سے پاک خواتین کے رحموں میں منتقل ہوتا چلا ایا ہوں جبکہ مشرک تونجس ہیں ۔اورامام رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کایہ کہنا کہ یہ شیعہ کامذہب ہے درست نہیں ۔ امام رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اچھی طرح چھان بین نہیں کی اس لیے ان سے یہ غلطی ہوگئی۔ علماء اہلسنت کی اکثریت کاقول یہ ہے کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا کا نام ہے اور ’’اب‘‘ کا لفظ چچا کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے۔( روح المعانی الانعام تحت الایۃ: ۷۴ ۴ / ۲۵۳) صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : قاموس میں ہے کہ ازر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کانام ہے۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی(رحمۃ اللہ تعالی علیہ )نے ’’مسالک الحنفاء‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں قران کریم میں ہے (جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے) ’’نعبد الهك و اله ابآىك ابرهم و اسمعیل و اسحق الها واحدا‘‘ اس میں حضرت اسماعیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کوحضرت یعقوب( علیہ الصلوۃ والسلام)کے اباء میں ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ اپ عم (یعنی چچا) ہیں ۔ حدیث شریف میں بھی حضرت سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کواب (یعنی باپ) فرمایا چنانچہ ارشاد کیا ’’ردواعلی ابی ‘‘ اور یہاں ابی سے حضرت عباس( رضی اللہ تعالی عنہ) مراد ہیں ۔( خزائن العرفان الانعام تحت الایۃ: ۷۴ ص۲۶۱) لہذا ثابت ہوا کہ ایت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے باپ (ازر) سے ان کا چچا مراد ہے حقیقی والد مراد نہیں ہیں ۔