Surah Maryam Ayat 43 (19:43)
Mary · Juz 16 · Makki
یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تیرے پاس نہیں آیا تو تُو میری پیروی کر ،میں تجھے سیدھی راہ دکھادوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں ۔
Tafseer (Urdu)
{یابت انی قد جآءنی من العلم:اے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ازر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک میرے پاس میرے رب عزوجل کی طرف سے اس کی معرفت کا وہ علم ایا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا تو تو میرا دین قبول کر کے میری پیروی کر میں تجھے سیدھی راہ دکھادوں گا جس سے تو اللہ تعالی کے قرب کی اس منزل تک پہنچ سکے گا جو مقصود ہے۔ اس ایت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے جس علم کا ذکرہوا اس کے بارے میں ایک قول تفسیر میں ذکر ہوا کہ اس سے مراد اللہ تعالی کی معرفت کا علم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس علم سے مراد وہ وحی ہے جو فرشتہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے کر اتا تھا یا اس سے مراد اخرت کے امور اور اخروی ثواب و عذاب کا علم ہے یا اس سے مراد اللہ تعالی کی وحدانیت اور صرف اللہ تعالی کے الہ ہونے اور صرف اسی کے عبادت کا مستحق ہونے کا علم ہے۔( البحر المحیط مریم تحت الایۃ: ۴۳ ۶ / ۱۸۲)ان اقوال میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے کہ حقیقت میں اپ علیہ السلام کو یہ سارے علوم عطا کئے گئے۔ ایت’’یابت انی قد جآءنی من العلم‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… اگر کوئی شخص عمر میں بڑا ہوا اور اسے دین کا علم حاصل نہ ہو جبکہ اس کی اولاد یا قریبی عزیزوں میں سے کوئی عمر میں اگرچہ چھوٹا ہے لیکن وہ دین کا علم رکھتا ہو تو اس سے علم دین سیکھنے میں شرم و عار محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ (2)…اگر چھوٹی عمر والا بڑی عمر والے کو کوئی اچھی نصیحت کرے تو چھوٹی عمر کی وجہ سے اس کی اچھی نصیحت کو نظر انداز کرنے کی بجائے اسے قبول کرنا چاہئے۔