Surah Maryam Ayat 50 (19:50)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔
Tafseer (Urdu)
{و وهبنا لهم من رحمتنا:اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے انہیں دنیا و اخرت کی عظیم ترین نعمت نبوت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں وسیع رزق اور اولاد عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی کہ ہر دین والے مسلمان ہوں خواہ یہودی یا عیسائی سب ان کی ثنا و تعریف کرتے ہیں اور مسلمانوں میں تو نمازوں کے اندر ان پر اور ان کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۵۰ ۳ / ۲۳۷ مدارک مریم تحت الایۃ: ۵۰ ص۶۷۶ ملتقطا) حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور ازر کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات: اس واقعے سے چار باتیں معلوم ہوئیں (1)…حق کی طرف ہدایت دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نرم مزاج اور اچھے اخلاق والا ہو کیونکہ عام طور پر جو بات سختی سے کہی جاتی ہے سننے والا اس سے منہ پھیر لیتا ہے البتہ جہاں سختی کا موقع ہو وہاں اسی کو بروئے کار لایا جائے۔ (2)…اپنے سے بڑے مرتبے والے کی پیروی کی جائے۔ یاد رہے کہ اطاعت و فرمانبرداری میں سے سب سے بڑا مرتبہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہے اور صحابہ و ائمہ دین کی پیروی بھی در حقیقت اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہی پیروی ہے۔ (3)… جو شخص دنیا و اخرت میں ظاہری و باطنی سلامتی چاہتا ہے وہ برے ساتھیوں اور بد مذہب لوگوں سے جدا ہو جائے۔ (4)…جو شخص اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کی خاطر اپنی پسندیدہ چیز چھوڑ دے تو اللہ تعالی اسے اس چیز سے بہت بہتر اور زیادہ پسندیدہ بدل عطا فرماتا ہے اور اس سے پہلی چیز کے چھوٹنے پر ہونے والی وحشت انسیت میں بدل جاتی ہے۔