Surah Maryam Ayat 52 (19:52)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے پکارا اور ہم نے اسے اپنا راز کہنے کیلئے مقرب بنایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسے ہم نے طور کی دا ہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا۔
Tafseer (Urdu)
{و نادینه من جانب الطور الایمن:اور ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے پکارا ۔} طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مصر اور مدین کے درمیان ہے۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی ’’یموسى انی انا الله رب العلمین‘‘ (قصص:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان:اے موسی میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پالنے والا ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے بلاواسطہ کلام فرمایا اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام کلیم اللہ کے شرف سے نوازے گئے ۔اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو مرتبہ قرب عطا فرمایا گیا حجاب اٹھا دئیے گئے یہاں تک کہ آپ نے قلموں کے چلنے کی اواز سنی اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی قدرو منزلت بلند کی گئی۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۵۲ ۳ / ۲۳۷-۲۳۸) کلیم اور حبیب میں فرق: یہا ں اللہ تعالی کے کلیم حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقام و مرتبے کافرق ملاحظہ ہو کہ اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کوہ طور پر جو کلام فرمایا اسے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذریعے سب پر ظاہر فرما دیا لیکن اللہ تعالی نے معراج کی رات لا مکاں میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جو کلام فرمایا وہ کسی کو نہ بتایا بلکہ یہ ارشاد فرما کرسب سے چھپا دیا کہ ’’فاوحى الى عبده ما اوحى‘‘(النجم:۱۰)ترجمہ کنزالعرفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اسنے وحی فرمائی۔