Surah Maryam Ayat 83 (19:83)
Mary · Juz 16 · Makki
اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّا 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب ابھارتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر انا ارسلنا الشیطین على الكفرین:کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے ۔} گزشہ ایات مبارکہ میں اللہ تعالی نے کافروں کی گمراہیوں اور اخرت میں ان کے حسرت ناک انجام کابیان فرمایا اور اب اس کاسبب بیان کیا جا رہا ہے کہ اخر کس وجہ سے وہ حق کے خلاف اس طرح کی باتیں کرتے تھے اور دلائل ہونے کے باوجود سمجھتے نہیں تھے ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اپ نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطانوں کو چھوڑ دیا اور ان پر شیطانوں کو مسلط کر دیا جو کہ انہیں طرح طرح کے وسوسے دلا کر گناہوں پر خوب ابھارتے ہیں ۔ اس ایت میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اس وجہ سے پریشان نہ ہوں کہ کفار اپ کی دعوت قبول کیوں نہیں کر رہے کیونکہ اپ کی دعوت میں کوئی کمی نہیں بلکہ ان کافروں پر شیطان مسلط ہیں جو انہیں گناہوں پر ابھار رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ اپ کی دعوت قبول نہیں کر رہے۔ ایت’’الم تر انا ارسلنا الشیطین‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے چار باتیں معلوم ہوئیں : (1)… بد عملی کی وجہ سے انسان پر شیطان مسلط ہوتا ہے۔ (2)… بر ے ساتھی اللہ تعالی کا عذاب ہیں ۔ (3)…بری باتوں کی رغبت دینا شیطان اور شیطانی لوگوں کا کام ہے۔ (4)… شیطان کسی کو کفر پرمجبور نہیں کرتا بلکہ کفر پر ابھارتا ہے اس کے برخلاف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے وارث کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ وہ بھی صرف انہیں ایمان کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں ۔ اب جوعقل والے ہیں وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت کوقبول کرتے ہیں اور جوشہوت پرست اور نفس کے بندے ہوتے ہیں وہ شیطان کی دعوت کوقبول کرتے ہیں اور کھلم کھلا اللہ تعالی کی نافرمانی اور اس کے مقابلہ پر تل جاتے ہیں اور جہنم کی ابدی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔