Surah Maryam Ayat 87 (19:87)
Mary · Juz 16 · Makki
لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاﭥ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariلوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جس نے رحمٰن کے پاس عہد لے رکھا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanلوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمٰن کے پاس قرار کر رکھا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا یملكون الشفاعة:لوگ شفاعت کے مالک نہیں ۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جسے اللہ تعالی کی طرف سے گناہگاروں کی شفاعت کا اذن مل چکاہے اس کے علاوہ کوئی بندہ کسی گناہگار کی شفاعت کا مالک نہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مجرموں میں سے کوئی اس بات کا مالک نہیں کہ اس کی شفاعت کی جائے البتہ ان میں سے جو مسلمان ہے اس کی شفاعت ہوگی۔(روح البیان مریم تحت الایۃ: ۸۷ ۵ / ۳۵۶) اللہ تعالی کے پاس عہد : یہاں ہم دو ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں جنہیں بجا لانے والے بندے کا عہد اللہ تعالی کے پاس رکھ دیا جاتا ہے۔ (1)…حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نےارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں جس نے انہیں ادا کیا اور ہلکا سمجھ کر ان میں سے کچھ ضائع نہ کیا تو اس کا اللہ تعالی کے پاس عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے اور جس نے انہیں ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ تعالی کے پاس کوئی عہد نہیں چاہے و ہ اسے عذاب دے یا اسے جنت میں داخل کر دے۔(ابو داود کتاب الوتر باب فیمن لم یوتر ۲ / ۸۹ الحدیث: ۱۴۲۰) (2)…حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اپنے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے یہ کہتے سنا کہ کیا تم اس بات سے عاجز ہوکہ ہرصبح وشام اپنے رب عزوجل کے پاس سے ایک عہد لو۔ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ کس طرح حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ صبح وشام یہ کہے ’’اللہم فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انی اعہد الیک فی ہذہ الحیاۃ الدنیا بانی اشہد ان لا الـہ الا انت وحدک لاشریک لک وان محمدا عبدک ورسولکفلا تکلنی الی نفسی فانک ان تکلنی الی نفسی تباعدنی من الخیر وتقربنی من الشر وانی لا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عہدا توفینیہ یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد‘‘ توجوشخص یہ کہے گا اللہ تعالی اس پرمہر لگا کر عرش کے نیچے رکھ دے گا اور جب قیامت کا دن ہوگا تو ندا کرنے والا ندا کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کا اللہ تعالی کے پاس عہد ہے پس وہ ادمی کھڑا ہوگا اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔(قرطبی مریم تحت الایۃ: ۸۷ ۶ / ۶۳ الجزء الحادی عشر)