Surah Al Baqarah Ayat 117 (2:117)
The Cow · Juz 1 · Madani
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ 117
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(وہ)بغیر کسی سابقہ مثال کے آسمانوں اور زمین کونیا پیدا کرنے والا ہے اور جب وہ کسی کام (کو وجود میں لانے) کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے صرف یہ فرماتا ہے کہ’’ ہو جا‘‘ تووہ فوراً ہوجاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanنیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورًا ہو جاتی ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{بدیع: بغیر مثال کے بنانے والا۔} بدیع کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نئے طور پربنانے والا۔ اللہ تعالی کے اسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے نہ کوئی اسمان تھا اور نہ زمین تو اللہ تعالی نئے طور پر اسے عدم سے وجود میں لایا۔ اللہ تعالی تمام مخلوق کے اعتبار سے ہی بدیع ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ہرچیز کو خود ہی وجود بخشا ہے پہلے کسی شے کی مثال موجود نہ تھی۔ {و اذا قضى: اور جب فیصلہ فرماتا ہے۔} فیصلہ فرمانے سے مراد ارادہ کرنا ہے جیساکہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’انما امره اذا اراد شیــٴـا ان یقول له كن فیكون‘‘( یس: ۸۲) ترجمہ کنزالعرفان:اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے فرماتا ہے ’’ ہوجا‘‘ تو وہ فورا ہوجاتی ہے۔ اوراس ایت سے اصل مراد یہ ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں کہ اللہ تعالی کسی شے کا ارادہ فرمائے اور وہ نہ ہو بلکہ اللہ تعالی کا ارادہ قطعی طور پر نافذ ہوتا ہے اورکسی شے کو وجود میں لانے کیلئے اللہ تعالی کو انسانو ں کی طرح محنت و مشقت کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالی کا اس چیز کے وجود کا ارادہ فرمالینا ہی کافی ہے۔یاد رہے کہ اللہ تعالی کسی بھی کام میں کسی کا محتاج نہیں اور اللہ تعالی کا مختلف کاموں کیلئے فرشتوں کو مقرر کرنا حکمت ہے حاجت نہیں۔