Surah Al Baqarah Ayat 118 (2:118)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌؕ-كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْؕ-تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْؕ-قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ 118
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جاہلوں نے کہا: اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آجاتی۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی تو اِن کے دل آپس میں ایک جیسے ہوگئے۔ بیشک ہم نے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کردیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے ۔
Tafseer (Urdu)
{الذین لا یعلمون:جو نہیں جانتے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ یہودیوں نے حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ اپنے قول کے مطابق اللہ تعالی کے رسول ہیں تو اللہ تعالی سے فرمایئے کہ وہ ہم سے کلام کرے تاکہ ہم خود ا س کا فرمان سن لیں۔اس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے یہودیوں نے بھی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی ہی بات کہی تھی۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا کہ اللہ تعالی جس طرح فرشتوں اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے کلام فرماتا ہے اس طرح خود ان سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کے متعلق کیوں کلام نہیں فرماتا تاکہ ہمیں یقین ہو جائے کہ اپ نبی ہیں اور ہم اپ پر ایمان لے ائیں یاہمارے پاس کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں اجاتی جس سے ہمیں اپ کی صداقت معلوم ہو جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان مشرکوں سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں سے ایسی ہی بات کہی تھی۔(در منثور البقرۃ تحت الایۃ: ۱۱۸ ۱ / ۲۷۱ روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۱۱۸ ۱ / ۲۱۵ قرطبی البقرۃ تحت الایۃ: ۱۱۸ ۱ / ۷۱ الجزء الثانی ملتقطا) یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ملائکہ کے برابر سمجھا۔ {تشابهت قلوبهم:ان کے دل اپس میں مل گئے۔} یہودونصاری اور مشرکین کے اقوال کا گزشتہ منکرین کے اقوال کے مطابق ہونا ان کے دلوں کی سختی اور کفر کے ایک دوسرے سے مشابہ ہونے کی علامت ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ آپ جاہلوں کی سرکشی اور معاندانہ انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔ پچھلے کفار بھی اپنے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے جیسے یہودیوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا تھا کہ ہم اپ کی بات نہ مانیں گے جب تک اللہ تعالی کوا علانیہ نہ دیکھ لیں۔یاد رہے کہ کفار سے معاشرت لباس اور وضع قطع میں بھی مشابہت کرنا منع ہے کہ ظاہر باطن کی علامت ہوتا ہے اور ظاہر کا باطن پر اثر ہوتا ہے۔ لہذا کفار کے طور طریقے سے بالکل دوری اختیار کی جائے تاکہ ان کا ظاہر مسلمان کے باطن کو متاثر نہ کرے۔