Surah Al Baqarah Ayat 148 (2:148)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 148
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتا ہے توتم نیکیوں میں آگے نکل جاؤ۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم سب کو اکٹھا کر لائے گا۔ بیشک اللہ ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا بیشک اللہ جو چاہے کرے۔
Tafseer (Urdu)
{و لكل وجهة: اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے ۔} اس ایت میں تبدیلی قبلہ کی ایک اور حکمت بیان کی گئی ہے کہ ہر امت کیلئے ایک قبلہ مقرر کیا گیا تو جب امت محمدیہ ایک امت ہے اور سب سے افضل امت ہے تو ان کے خصوصی امتیاز کیلئے ان کا قبلہ دوسروں سے جداگانہ بنایا گیااوراس میں خصوصیت یہ ہے کہ ان کایہ قبلہ ہمیشہ کے لئے رہے گا کبھی تبدیل نہ ہو گا۔ {فاستبقوا الخیرت: تو نیکیوں میں اگے نکل جاو۔} یعنی قبلہ کا موضوع طے ہوگیا لہذا اب صرف اسی بحث میں نہ رہو بلکہ اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت اور دین کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ مقابلہ کس چیز میں کرنا چاہئے: یہاں ایت مبارکہ میں ایک بڑی ہی پیاری بات سمجھائی گئی ہے کہ مال و دولت عہدہ و منصب شہرت و مقبولیت اور دنیاداری ایسی چیز نہیں کہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جائے بلکہ یہ سب تو ازمائش اور محض دنیاوی زندگی کی زینت دھوکے کا سامان اور فنا ہونے والی کمائی ہے جبکہ باقی رہنے والی اور مقابلے کے قابل چیز تو اللہ تعالی کی عبادتاس کی اطاعت جنت اور اس کی رضاہے جس کی طرف اللہ تعالی نے بار بار بلایا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی سیرت میں نیکیوں میں مقابلے اور سبقت لے جانے کے بکثرت نظارے دیکھے جا سکتے ہیں جیسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ تبوک میں گھر کا ادھا مال خیرات کرنے کیلئے لائے تو حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ گھر کا سارا سامان لے ائے۔(شرح الزرقانی کتاب المغازی ثم غزوۃ تبوک ۴ / ۶۹) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں باپ بیٹے میں جہاد میں شرکت کیلئے بحث ہوتی ہر کوئی کہتا کہ میں شرکت کروں گا تم گھر پر رہو حتی کہ معذور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بھی راہ خدا میں شہادت کیلئے بے قرار رہتے۔(مدار ج النبوہ کارزارہائے صحابہ در جنگ احد الجزء الثانی ص۱۲۴) غربت و بے کسی کی وجہ سے راہ خدا میں سفر نہ کرسکنے والے روتے تھے۔( توبہ: ۹۲)ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ اگر ادھی رات عبادت کرتا تو دوسرا پوری رات ایک اگرتہائی قران کی تلاوت کرتا تو دوسرا ادھے قران کی ۔ اللہ تعالی ہمیں بھی نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی توفیق اور جذبہ عطا فرمائے۔ [1] {این ما تكونوا:تم جہاں کہیں بھی ہوگے۔} یعنی اے مسلمانو اور اہل کتاب !تم جہاں کہیں بھی ہو گے قیامت کے دن اللہ تعالی تم سب کو اکٹھا کر لائے گا اور وہ اطاعت گزار بندوں کو ثواب دے گا اور نافرمانوں کو عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ بیشک اللہ تعالی ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے تو وہ مخلوق کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اطاعت گزاروں کو ثواب دینے اور سزا کے مستحق افراد کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۴۸ ۱ / ۱۰۱) [1]۔۔۔نیکیوں کا جذبہ پانے کے لئے دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر بے حد مفید ہے۔