Surah Al Baqarah Ayat 171 (2:171)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ 171
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کافروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے کو پکارے جو خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہیں سنتا۔ (یہ کفار) بہرے، گونگے، اندھے ہیں تو یہ سمجھتے نہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ پکار کے سوا کچھ نہ سنے، بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و مثل الذین كفروا: اور کافروں کی مثال۔} حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کافروں کو مسلسل دین حق کی دعوت دیتے رہتے۔ کافر سنتے تو تھے لیکن اس سے کچھ نفع حاصل نہ کرتے یعنی ایمان نہ لاتے۔ ان کے اس سننے کی مثال بیان کی گئی کہ جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں اواز دے تو وہ محض ایک اواز تو سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے یونہی کافروں کا حال ہے کہ حبیب خداصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انہیں حق کی طرف بلاتے ہیں یہ ان کا کلام سنتے ہیں لیکن جواب میں جانوروں جیسا طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے انکھ کان زبان کا کیا فائدہ جس سے کوئی نفع نہ اٹھایا جاسکے۔ اس اعتبار سے تو یہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں۔ اس ایت میں کچھ درس ہمارے لئے بھی ہے کہ دعوت و تبلیغ وعظ و نصیحت قران و حدیث اصلاح و تفہیم کے باوجود جو طرز عمل ہمارا ہے وہ بھی کچھ سوچنے کا تقاضا کرتا ہے کہ اس اعتبار سے ہمارے انکھ کان بھی کھلے ہوئے ہیں یا نہیں