Surah Al Baqarah Ayat 23 (2:23)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پرنازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ و ان كنتم فی ریب:اور اگر تمہیں کچھ شک ہو ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت کا بیان ہوا اور یہاں سے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کے اللہ تعالی کی بے مثل کتاب ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جارہی ہے جو طالب صادق کو اطمینان بخشے اور منکروں کو عاجز کردے۔اللہ تعالی کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اور محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قران ہے لہذا اس رکوع میں ترتیب سے ان سب کو بیان کیا گیا ہے۔ {على عبدنا: اپنے خاص بندے پر ۔}اس ایت میں خاص بندے سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مراد ہیں۔(مدارک البقرۃ تحت الایۃ: ۲۳ ص۳۵) یہاں اس انداز تعبیر میں نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان محبوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں : لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا خالق کا بندہ خلق کا اقا کہوں تجھے {فاتوا بسورة من مثله: تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاو ۔}ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت میں قران کے بے مثل ہونے پر دو ٹوک الفاظ میں ایک کھلی دلیل دی جارہی ہے کہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرنے والوں کو چیلنج ہےکہ اگر تم قران کو اللہ تعالی کی کتاب نہیں بلکہ کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو چونکہ تم بھی انسان ہو لہذا اس جیسی ایک سورت بنا کر لے او جو فصاحت و بلاغت حسن ترتیب غیب کی خبریں دینے اور دیگر امور میں قرآن پاک کی مثل ہواور اگرایسی کوئی سورت بلکہ ایت تک نہ بنا سکو تو سمجھ لو کہ قران اللہ تعالی کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی کتاب کا انکار کرنے والوں کا انجام دوزخ ہے جو بطور خاص کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ نوٹ: یہ چیلنج قیامت تک تمام انسانوں کیلئے ہے اج بھی قران کو محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصنیف کہنے والے کفار تو بہت ہیں مگر قران کی مثل ایک ایت بنانے والا اج تک کوئی سامنے نہیں ایا اور جس نے اس کا دعوی کیا اس کا پول خود ہی چند دنوں میں کھل گیا۔ اعجاز قران کی وجوہات: قران مجید وہ بے مثل کتا ب ہے کہ لوگ اپنے تمام تر کمالات کے باوجود قران پاک جیساکلام بنانے سے عاجز ہیں اورجن و انس مل کر بھی اس کی ایات جیسی ایک ایت بھی نہیں بنا سکتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قران مجید اللہ تعالی کا کلام ہے اور مخلوق میں کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالی کے کلام کی مثل کلام بنا سکے اور یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود اج تک کوئی بھی قران مجید کے دئیے ہوئے چیلنج کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی دے سکے گا۔قران پاک کے بے مثل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جنہیں علماء و مفسرین نے اپنی کتابوں میں بہت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے ہم یہاں پر ان میں سے صرف تین وجوہات بیان کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے بڑی تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔ (1)…فصاحت و بلاغت: عرب کے لوگ فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے اور ان کی صفوں میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو کہ بلاغت کے فن میں اعلی ترین منصب رکھنے والےعمدہ الفاظ بولنے والےچھوٹے اور بڑے جملوں کو بڑی فصاحت سے تیار کرنے والے تھے اور تھوڑے کلام میں بہترین تصرف کرلیتے تھے اپنی مراد کو بڑے عمدہ انداز میں بیان کرتے کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام فنون کی رعایت کرتے اور ایسے ماہر تھے کہ فصاحت و بلاغت کے جس دروازے سے چاہتے داخل ہو جاتے تھےالغرض دنیا میں ہر طرف ان کی فصاحت و بلاغت کا ڈنکا بجتا تھا اور لوگ فصاحت و بلاغت میں ان کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ ان اہل عرب کو فصاحت و بلاغت کے میدا ن میں اگر کسی نے عاجز کیا ہے تو وہ کلام قران مجید ہے اس مقدس کتاب کی فصاحت و بلاغت نے اہل عرب کی عقلوں کو حیران کردیا اور اپنی مثل لانے سے عاجز کردیا۔ (2)…تلاوت قران کی تاثیر: قران مجید کے بے مثل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اسے پڑھنے اور سننے والا کبھی سیر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے اکتاتا ہے بلکہ وہ اس کی جتنی زیادہ تلاوت کرتا ہے اتنی ہی زیادہ شیرینی اور لذت پاتا ہے اور بار بار اس کی تلاوت کرنے سے اس کی محبت دل میں راسخ ہوتی جاتی ہے اور ا س کے علاوہ کوئی اور کلام اگرچہ وہ کتنی ہی خوبی والا اورکتنا ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو اسے بار بار پڑھنے سے دل اکتا جاتا ہے اور جب اسے دوبارہ پڑھا جائے تو طبیعت بیزار ہو جاتی ہے ۔ قران مجید کی اس شان کے بارے میں حضرت حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قران وہ ہے جس کی برکت سے خواہشات بگڑتی نہیں اور جس سے دوسری زبانیں مشتبہ نہیں ہوتی علماء اس سے سیر نہیں ہوتےیہ بار بار دہرائے جانے سے پرانا نہیں ہوتا اور ا س کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔(ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جاء فی فضل القران ۴ / ۴۱۴-۴۱۵ الحدیث: ۲۹۱۵) نیزقران مجید کی ایات میں رعب قوت اور جلال ہے کہ جب کوئی ان کی تلاوت کرتا ہے یا انہیں کسی سے سنتا ہے تو اس کے دل پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے حتی کہ جسے قران پاک کی ایات کے معانی سمجھ میں نہ ا رہے ہوں اور وہ ایات کی تفسیر بھی نہ جانتا ہو اس پر بھی رقت طاری ہو جاتی ہے جبکہ قران مجید کے علاوہ اور کسی کتاب میں یہ وصف نہیں پایا جاتا اگرچہ وہ کیسے ہی انداز میں کیوں نہ لکھی گئی ہو۔ (3)… غیب کی خبریں : قران پاک میں مستقبل کے متعلق جو خبریں دی گئیں وہ تمام کی تمام پوری ہوئیں مثلا زمانہ نبوی میں رومیوں کے ایرانیوں پر غالب انے کی خبر دی گئی اور وہ سوفیصد پوری ہوئی۔