Surah Al Baqarah Ayat 245 (2:245)
The Cow · Juz 2 · Madani
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ 245
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔
Tafseer (Urdu)
{من ذا الذی یقرض الله قرضا حسنا: ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے۔} راہ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا یہ اللہ تعالی کا کمال درجے کا لطف و کرم ہے کیونکہ بندہ اس کا بنایا ہوا اور بندے کا مال اس کا عطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ جبکہ بندہ اس کی عطا سے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ بات دل میں بٹھانا مقصود ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کا مال ضائع نہیں ہوتا اوروہ اس کی واپسی کا مستحق ہے ایسا ہی راہ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ اس خرچ کرنے کا بدلہ یقینا پائے گا اوروہ بھی معمولی نہیں بلکہ کئی گنا بڑھا کر پائے گا ۔ سات سو گنا بھی ہوسکتا ہے اور اس سے لاکھوں گنا زائد بھی جیسا کہ سورہ بقرہ کی ایت 261میں ہے۔صدقہ سے دنیا میں بھی مال میں برکت ہوتی ہے اور اخرت میں بھی اجر وثواب ملتا ہے۔ دنیا کے اگر لاکھوں امیر لوگوں کا سروے کریں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات بکثرت کرتی ہے اور لاکھوں غریبوں کو دیکھ لیں کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات سے دور بھاگتی ہے۔ {و الله یقبض و یبصط: اور اللہ تنگی دیتا ہے اوروسعت دیتا ہے۔} ایت کے اس حصے میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی چونکہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے تو اس شبہے کا ازالہ فرما دیا کہ اللہ تعالی جس کے لیے چاہے روزی تنگ کردے اورجس کے لیے چاہے وسیع فرمادے تنگی و فراخی تواس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کا وعدہ کرتاہے تو راہ خدا میں خرچ کرنے سے مت ڈرو جس کی راہ میں خرچ کررہے ہو وہ کریم ہے اور اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور جود و بخشش کے خزانے لٹانا اس کریم کی شان ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’رحمن کا دست قدرت بھرا ہوا ہے بے حد و حساب رحمتیں اور نعمتیں یوں برسانے والا ہے کہ دن رات (کے عطا فرمانے)نے اس میں کچھ کم نہ کیا اور دیکھو تو کہ اسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک اللہ تعالی نے کتنا خرچ کردیا ہے لیکن ا س کے باوجود اس کے دست قدرت میں جو خزانے ہیں اس میں کچھ کمی نہیں ائی۔(ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ ۵ / ۳۴ الحدیث: ۳۰۵۶)