Surah Al Baqarah Ayat 65 (2:65)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یقیناً تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں سرکشی کی۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{الذین اعتدوا:جنہوں نے سرکشی کی۔} شہر ایلہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھا کہ ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کردیں اوراس روز شکار نہ کریں اور دنیاوی مشاغل ترک کردیں۔ ان کے ایک گروہ نے یہ چال چلی کہ وہ جمعہ کے دن شام کے وقت دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودتے اور ہفتہ کے دن ان گڑھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہوجاتیں اور اتوار کے دن انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے ہفتے کے دن تو نہیں نکالتے یہ کہہ کر وہ اپنے دل کو تسلی دے لیتے۔ چالیس یا ستر سال تک ان کا یہی عمل رہا اور جب حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کازمانہ آیا تواپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اس سے منع کیااور فرمایا کہ قید کرنا ہی شکار ہے جو تم ہفتے ہی کو کر رہے ہو۔ جب وہ باز نہ آئے تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان پر لعنت فرمائی اور اللہ تعالی نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ نوجوان بندروں کی شکل میں اور بوڑھے خنزیروں کی شکل میں مسخ ہوگئے ان کی عقل اور حواس تو باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی اور بدنوں سے بدبو نکلنے لگی وہ اپنے اس حال پر روتے رہے یہاں تک کہ تین دن میں سب ہلاک ہوگئے ان کی نسل باقی نہ رہی اور یہ لوگ ستر ہزار کے قریب تھے۔(روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۶۵ ۱ / ۱۵۶-۱۵۷ تفسیر عزیزی (مترجم) ۲ / ۴۹۲-۴۹۴ ملتقطا) اس واقعہ کی مزید تفصیل سورہ اعراف کی ایت 163تا 166 میں ائے گی۔ حیلہ کرنے کا حکم: یاد رہے کہ حکم شرعی کو باطل کرنے کیلئے حیلہ کرنا حرام ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا اور حکم شرعی کو کسی دوسرے شرعی طریقے سے حاصل کرنے کیلئے حیلہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قران پاک میں حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کا اس طرح کا عمل سورہ ص ایت44میں مذکور ہے۔