Surah Taha Ayat 114 (20:114)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ٘-وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا 114
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو وہ اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے اور آپ کی طرف قرآن کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن میں جلدی نہ کرو اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو سب سے بلند ہے اللہ سچا بادشاہ اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے اور عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے ۔
Tafseer (Urdu)
{فتعلى الله الملك الحق:تو وہ اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے۔}ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ عزوجل بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ اور اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ہیں اور اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ اپنی طرف قران کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کریں ۔ اس کاشان نزول یہ ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام قرآن کریم لے کر نازل ہوتے تھے توسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ یاد کرنے کی مشقت نہ اٹھائیں ۔ سورہ قیامہ میں اللہ تعالی نے قران مجید کو جمع کرنے اور اسے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زبان مبارک پر جاری کرنے کا خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلی فرما دی ۔ {و قل رب زدنی علما: اور عرض کرو:اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو علم میں اضافے کی دعا مانگنے کی تعلیم دی اس سے معلوم ہوا کہ علم سے کبھی سیر نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید علم کی طلب میں رہنا چاہئے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی حرص اچھی چیز ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام مخلوق میں سب سے بڑے عالم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا کہ زیادتی علم کی دعا مانگو۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا علم ہمیشہ ترقی میں ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و للاخرة خیر لك من الاولى‘‘(والضحی:۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک تمہارے لئے ہر پچھلی گھڑی پہلی سے بہتر ہے۔