Surah Taha Ayat 123 (20:123)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى ﳔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى 123
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ نے فرمایا: تم دونوں اکٹھے جنت سے اتر جاؤ، تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر (اے اولادِ آدم) اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا کہ تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قال اهبطا منها جمیعا: فرمایا: تم دونوں اکٹھے جنت سے اترجاو۔} جب حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے لغزش صادر ہوئی تو اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حواء رضی اللہ تعالی عنہاسے فرمایا: تم دونوں اپنی ذریت کے ساتھ مل کر اکٹھے جنت سے زمین کی طرف اترجاو تمہاری اولاد میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے دنیا میں ایک دوسرے سے حسد اور دین میں اختلاف کریں گے پھر اے اولاد ادم! اگر تمہارے پاس میری طرف سے کتاب اور رسول کی صورت میں کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں نہ گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بدبخت ہوگا کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں حق راستے سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی اللہ تعالی کی کتاب اوراس کے برحق رسول کی پیروی کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں گمراہ ہونے سے اور آخرت میں اس گمراہی کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا۔( روح البیان طہ تحت الایۃ: ۱۲۳ ۵ / ۴۴۰-۴۴۱ مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۲۳ ص۷۰۶ ملتقطا) دنیا میں گمراہی اور اخرت میں بدبختی سے بچنے کا ذریعہ: اس سے معلوم ہوا کہ اس امت کے لوگوں کا قران مجید میں دئیے گئے احکامات پر عمل کرنا اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنا انہیں دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور اخرت میں بدبختی سے نجات دلائے گا لہذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ قران مجید کی پیروی کرے اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اتباع کرے تاکہ وہ گمراہ اور بدبخت ہونے سے بچ جائے ۔ اللہ تعالی قران کریم کی پیروی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ’’و هذا كتب انزلنه مبرك فاتبعوه و اتقوا لعلكم ترحمون‘‘(انعام: ۱۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور یہ (قران)وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی برکت والا ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’و اتبعوا احسن ما انزل الیكم من ربكم من قبل ان یاتیكم العذاب بغتة و انتم لا تشعرون‘‘(زمر:۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی) نہ ہو۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ارشاد فرماتا ہے: ’’قل یایها الناس انی رسول الله الیكم جمیعاﰳ الذی له ملك السموت و الارض-لا اله الا هو یحی و یمیت۪-فامنوا بالله و رسوله النبی الامی الذی یؤمن بالله و كلمته و اتبعوه لعلكم تهتدون‘‘(اعراف:۱۵۸) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ: اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اوران کی غلامی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔ اورارشاد فرماتا ہے: ’’قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی یحببكم الله و یغفر لكم ذنوبكم-و الله غفور رحیم(۳۱)قل اطیعوا الله و الرسول-فان تولوا فان الله لا یحب الكفرین‘‘(ال عمران۳۱۳۲) ترجمہ کنزالعرفان: اے حبیب! فرمادو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبرداربن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم فرمادو کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھراگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ قران عظیم کی پیروی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اتباع کریں ان کے بارے میں ارشاد فرماتاہے: ’’الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مكتوبا عندهم فی التورىة و الانجیل-یامرهم بالمعروف و ینهىهم عن المنكر و یحل لهم الطیبت و یحرم علیهم الخبىث و یضع عنهم اصرهم و الاغلل التی كانت علیهم-فالذین امنوا به و عزروه و نصروه و اتبعوا النور الذی انزل معه-اولىك هم المفلحون‘‘(اعراف :۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جواس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں جسے یہ (اہل کتاب )اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائی سے منع کرتے ہیں اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان کے اوپر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتے ہیں جو ان پر تھیں تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں قران مجید کی پیروی کرنے اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین۔