Surah Taha Ayat 130 (20:130)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ-وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى 130
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان کی باتوں پر صبر کرو اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے کناروں پر (بھی اللہ کی) پاکی بیان کرو، اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو۔
Tafseer (Urdu)
{فاصبر على ما یقولون:تو اپ ان کی باتوں پر صبر کریں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کو جھٹلانے والوں سے عذاب موخر کر کے ہم نے انہیں مہلت دی ہے اب اگر یہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تو ضرور عذاب میں مبتلا ہوں اس لئے اپ ان کی دل ازار باتوں پر صبر کرتے رہیں یہاں تک کہ ان کے بارے میں کوئی حکم نازل ہو جائے۔( روح البیان طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۵ / ۴۴۴) {و سبح بحمد ربك:اوراپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔} یہاں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے غروب ہونے سے پہلے رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے کناروں پر حمد کے ساتھ اللہ تعالی کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا گیا سورج طلوع ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد نمازفجر ادا کرنا ہے ۔ سورج غروب ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد ظہر و عصر کی نمازیں ادا کرنا ہیں جو کہ دن کے دوسرے نصف میں سورج کے زوال اور غروب کے درمیان واقع ہیں ۔ رات کی کچھ گھڑیوں میں پاکی بیان کرنے سے مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھنا مراد ہے۔ دن کے کناروں میں پاکی بیان کرنے سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں اور یہاں تاکید کے طور پر ان نمازوں کی تکرار فرمائی گئی ہے ۔ بعض مفسرین سورج غروب ہونے سے پہلے سے نماز عصر اور دن کے کناروں سے نماز ظہر مراد لیتے ہیں ان کی توجیہہ یہ ہے کہ نماز ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے پہلے نصف اور دوسرے نصف کے کنارے ملتے ہیں اور یہاں پہلے نصف کی انتہا اور دوسرے نصف کی ابتدا ہے۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ص۷۰۷ خازن طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۳ / ۲۶۹ ملتقطا) {لعلك ترضى: اس امید پر کہ تم راضی ہوجاو۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان اوقات میں اس امید پر اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے رہیں کہ اپ اللہ تعالی کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اکرام سے راضی ہوں اپ کو امت کے حق میں شفیع بنا کر اپ کی شفاعت قبول فرمائے اور اپ کو راضی کرے۔( روح البیان طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۵ / ۴۴۴-۴۴۵ خازن طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۳ / ۲۶۹) اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رضا چاہتا ہے : علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس ایت کے تحت اپنی مشہور کتاب تفسیر صاوی میں فرماتے ہیں :اے بندے! اس لطف و کرم والے خطاب کو دیکھ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رب العالمین عزوجل کے حبیب ہیں اور ساری مخلوق سے افضل ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان سے یوں نہیں ارشاد فرمایا ’’تاکہ میں اپ سے راضی ہو جاوں۔یونہی اس طرح کا کوئی اور کلام نہیں فرمایا (جیسے یوں نہیں فرمایا ’’تاکہ اپ کو میری رضا حاصل ہو جائے) بلکہ یوں ارشاد فرمایا ہے ’’لعلك ترضى‘‘ یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تاکہ اپ راضی ہو جائیں ۔ اور یہاں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان بھی ملحوظ رہے کہ میری انکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ‘‘اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ قول بھی پیش نظر رہے (جس میں اپ اپنے پیارے محبوب سے عرض کرتی ہیں :یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) میں حضور کے رب عزوجل کو دیکھتی ہوں کہ وہ حضور کی خواہش میں جلدی فرماتا ہے۔‘‘ پس رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نماز کا حکم ا س لئے نہیں دیا گیا کہ ان کی کوئی خطا ہے جو معاف ہو جائے یا اس لئے نہیں دیا گیا نماز ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی ان سے راضی ہو جائے بلکہ اس لئے دیاگیا ہے تاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم راضی ہو جائیں کیونکہ نماز میں حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں جو کہ ان کی انکھوں کی ٹھنڈک ہے اور اس امت کے کامل عارف اولیاء کرام کو بھی اس مقام سے کچھ حصہ ملتا ہے۔( صاوی طہ تحت الایۃ: ۱۳۰ ۴ / ۱۲۸۷)