Surah Taha Ayat 131 (20:131)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى 131
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تمدن عینیك الى:اوراس کی طرف تو اپنی انکھیں نہ پھیلا۔} اس ایت میں بظاہر خطاب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہے اور اس سے مراد اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت ہے اور ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں جیسے یہودیوں عیسائیوں اور مشرکوں وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں اس کے سبب اس طرح ازمائش میں ڈالیں کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں لہذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی انکھیں نہ پھیلا اور اخرت میں تیرے ربعزوجل کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔( البحر المحیط طہ تحت الایۃ: ۱۳۱ ۶ / ۲۶۹ مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۳۱ص۷۰۷ خازن طہ تحت الایۃ: ۱۳۱ ۳ / ۲۶۹-۲۷۰ ملتقطا) کفار کی ترقی ان کے لئے ازمائش ہے: اس ایت سے معلوم ہو اکہ کافروں کے دنیوی سازو سامانمال و دولت اور عیش و عشرت کافروں کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے ایک ازمائش ہیں اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نافرمانوں کی شان و شوکت اور رعب داب نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۳۱ص۷۰۷) اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں ترقی مال و دولت اور عیش عشرت کی فراوانی دیکھ کرتو ان سے انتہائی مرعوب اور دین اسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جبکہ انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں کتنا اگے بڑھ چکے ہیں کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اسی ترقی کے سبب اج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں کر رہے … فحاشی عریانی بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں کر چکے… ظلم و ستم سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں چکے… مسلمانوں کو ذلت و رسوائی میں ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں چکے… افسوس! ان سب چیزوں کو اپنی جیتی جاگتی انکھوں سے دیکھنے سماعت سے بھر پور کانوں سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں سن سنا کر اور مسلمانوں کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی دین اسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اللہ تعالی انہیں عقل سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔