Surah Taha Ayat 18 (20:18)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
قَالَ هِیَ عَصَایَۚ-اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariعرض کی: یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میری اس میں اور بھی کئی ضرورتیں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanعرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قال هی عصای:عرض کی: یہ میرا عصا ہے۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی: یہ میرا عصا ہے جب تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے خشک درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں اور میری کئی ضروریات میں بھی یہ میرے کام اتا ہے جیسے اس کے ذریعے توشہ اور پانی اٹھانا موذی جانوروں کو دفع کرنا اور دشمنوں سے لڑائی میں کام لینا وغیرہ ۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے عصا کے ان فوائد کو بیان کرنا اللہ تعالی کی نعمتوں کے شکر کے طور پر تھا۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۱۸ ۳ / ۲۵۱ مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۸ ص۶۸۸ ملتقطا) عصا رکھنے کے فوائد: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اپنے پاس عصا رکھنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے اور اس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ عصا رکھنے میں چھ فضیلتیں ہیں ۔ (1) یہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے (2)صلحاکی زینت ہے (3) دشمنوں کے خلاف ہتھیار ہے (4)کمزورں کا مددگار ہے (5)منافقین کے لیے پریشانی کاباعث ہے (6)عبادت میں زیادتی کاباعث ہے۔( قرطبی طہ تحت الایۃ: ۱۸ ۶ / ۸۹ الجزء الحادی عشر) عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی: تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی عصا مبارک استعمال فرمایا کرتے تھے اسی سلسلے میں ایک بہت پیاری حکایت ملاحظہ ہو چنانچہ جب حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ نے خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ منورہ لائے اور تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا تو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر انہیں اپنا عصا عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لے کر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔( زرقانی علی المواہب کتاب المغازی سریۃ عبد اللہ بن انیس ۲ / ۴۷۳-۴۷۴ ملخصا)