Surah Taha Ayat 39 (20:39)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗؕ-وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ ﳛ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْﭥ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے پھردریا اسے کنارے پر ڈال دے گاتا کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن ہے اور اس کا (بھی) دشمن ہے اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی اورتاکہ میری نگاہ کے سامنے تمہاری پرورش کی جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھا لے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و القیت علیك محبة منی:اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا محبوب بنایا اور مخلوق کا محبوب کر دیا۔‘‘ اور جسے اللہ تعالی اپنی محبوبیت سے نوازتا ہے تودلوں میں اس کی محبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا یہی حال حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا کہ جو آپ کو دیکھتا تھا اسی کے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو جاتی تھی ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھوں میں ایسی ملاحت تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کے دل میں محبت جوش مارنے لگتی تھی۔(خازن طہ تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۲۵۳ مدارک طہ تحت الایۃ: ۳۹ ص۶۹۱ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ محبوبیت و مقبولیت خلق بھی بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا معجزہ ہے۔ ہمارے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیشہ مخلوق کے محبوب ہیں اور یہ محبوبیت بھی حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا معجزہ ہے۔نیز ایت کے اخری حصے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کی پرورش کاانتظام بھی خود فرما دیتا ہے۔