Surah Taha Ayat 38 (20:38)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤى 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب ہم نے تمہاری ماں کے دل میں وہ بات ڈال دی جو اس کے دل میں ڈالی جانی تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا ۔
Tafseer (Urdu)
{اذ اوحینا الى امك:جب ہم نے تمہاری ماں کے دل میں وہ بات ڈال دی ۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے جس احسان کا تذکرہ فرمایا یہاں سے اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب آپ کی ولادت کے وقت اپ کی ماں کویہ اندیشہ ہوا کہ فرعون اپ کو قتل کر ڈالے گا تو ہم نے اس کے دل میں ڈال کر یا خواب کے ذریعے سے الہام کیا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا تاکہ اسے وہ فرعون اٹھالے جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں روئی بچھائی اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اس میں رکھ کر صندوق بند کر دیا اور اس کی درزیں قیر کے روغن سے بند کر دیں پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں بہا دیا۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں ایک نورانی شکل کا فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیااسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۳۸-۳۹ ۳ / ۲۵۳) نوٹ:یہاں ایک بات یاد رہے کہ وحی صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف ہوتی ہے اور قران مجید میں جہاں بھی وحی کا لفظ غیر نبی کے لئے ایا ہے وہاں اس سے ’’ الہام کرنا‘‘ مراد ہو تا ہے۔