Surah Taha Ayat 4 (20:4)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىﭤ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔
Tafseer (Urdu)
{تنزیلا:نازل کیا ہوا ہے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے قران مجید کی عظمت بیان فرمائی کہ یہ قران اس اللہ عزوجل کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمینوں اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا اور جس نے اتنی عظیم مخلوق پیدا فرمائی وہ خالق کتنا عظیم ہو گا اور جب ایسی عظیم ذات نے قران مجید نازل فرمایا ہے تو یہ قران کتنا عظمت والا ہو گا۔ قران مجید کی عظمت بیان کرنے کا مقصد: یہاں قران کریم کی عظمت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کے معانی میں غورو فکر کریں اور اس کے حقائق میں تدبر کریں کیونکہ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ جس پیغام کو بھیجنے والا انتہائی عظیم ہو تو اس پیغام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور پوری توجہ سے اسے سنا جاتا ہے اور بھر پور طریقے سے اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ اور جب قران کریم کو نازل فرمانے والا سب سے بڑا عظیم ہے تو اس کی طرف سے بھیجے ہوئے قران عظیم کوسب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہئے اور اس میں انتہائی غورو فکر کرنا اور کامل طریقے سے ا س کے دئیے گئے احکام پر عمل کرنا چاہئے ۔ افسوس! اج مسلمانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو تلاوت قران کرنے سے ہی محروم ہے اور جو تلاوت کرتے بھی ہیں تو وہ درست طریقے سے تلاوت نہیں کرتے اور صحیح طریقے سے تلاوت کرنے والوں کا بھی حال یہ ہے کہ وہ نہ قران مجید کو سمجھتے ہیں نہ اس میں غورو فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ہماری مصیبت سے بڑی کوئی مصیبت نہیں ہم میں سے ایک شخص دن رات قران مجید پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا حالانکہ یہ مکمل قران مجید ہماری طرف ہمارے رب کے پیغامات ہیں۔(تنبیہ المغترین الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق ومن اخلاقہم رضی اللہ عنہم کثرۃ الاستغفار وخوف المقت ۔۔۔ الخ ص۲۶۱) اور حضرت محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جس تک قران مجیدپہنچ گیا تو گویا اللہ تعالی نے اس سے کلام کیا۔ جب وہ ا س بات پر قادر ہو جائے تو قران مجید پڑھنے ہی کو اپنا عمل قرار نہ دے بلکہ اس طرح پڑھے جس طرح کوئی غلام اپنے مالک کے لکھے ہوئے خط کو پڑھتا ہے تاکہ وہ اس میں غوروفکر کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔( احیاء علوم الدین کتاب اداب تلاوۃ القران الباب الثالث فی اعمال الباطن فی التلاوۃ ۱ / ۳۷۸) اللہ تعالی ہمیں قران مجید کی تلاوت کرنے اسے سمجھنے اس میں غورو فکر کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔