Surah Taha Ayat 7 (20:7)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر تم بلند آواز سے بولو تو بیشک وہ آہستہ آواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی) جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فانه یعلم السر و اخفى: تو بیشک وہ اہستہ اواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی)جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔} اس ایت کے دو الفاظ ’’السر‘‘ اور ’’ اخفى‘‘ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں جیسے ایک قول یہ ہے کہ سروہ ہے جسے آدمی چھپاتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘وہ ہے جسے انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں اور نہ اس سے اس کے ارادے کا کوئی تعلق ہوا نہ اس تک اس کاخیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ سر سے مراد وہ ہے جسے بندہ انسانوں سے چھپاتا ہے اور ’’اس سے زیادہ چھپی ہوئی‘‘ چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بندے کا راز وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور اللہ تعالی جانتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘ربانی اسرار ہیں جنہیں اللہ تعالی جانتا ہے بندہ نہیں جانتا۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۷ ۳ / ۲۴۹ ملتقطا) برے کاموں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب: اس ایت میں بیان ہوا کہ اللہ تعالی ہماری اہستہ اواز کو جانتا ہے اور جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے اسے بھی جانتاہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالی بندوں کے ظاہری باطنی احوال انکھوں کی خیانت سینوں میں چھپی باتیں اور ہمارے تمام کام جانتا ہے اور ہمارے تمام افعال کو دیکھ بھی رہا ہےچنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و الله یعلم ما تبدون و ما تكتمون‘‘(مائدہ:۹۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’ یعلم خآىنة الاعین و ما تخفی الصدور‘‘(مومن:۱۹) ترجمہ کنزالعرفان: اللہ انکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسےبھی جو سینے چھپاتے ہیں ۔ اور ارشاد فرمایا ’’اعملوا ما شئتم-انه بما تعملون بصیر‘‘(حم السجدہ:۴۰) ترجمہ کنزالعرفان: تم جو چاہو کرتے رہو ۔بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ ان ایات میں ہر بندے کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ وہ خفیہ اور اعلانیہ ظاہری اور باطنی تمام گناہوں سے پرہیز کرے کیونکہ کوئی ہمارے گناہوں کو جانے یا نہ جانے اور کوئی انہیں دیکھے یا نہ دیکھے لیکن وہ اللہ تعالی تو دیکھ رہا ہے جو دنیا میں کسی بھی وقت اس کی گرفت فرما سکتا ہے اور اگر اس نے دنیا میں کوئی سزا نہ دی تو وہ اخرت میں جہنم کی دردناک سزا دے سکتا ہے۔ نیز ان ایات میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی ہے کہ لوگ اللہ تعالی کی رضاکے لئے کوئی نیکی چھپ کر کریں یا سب کے سامنے اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں اس کی جزا عطا فرمائے گا۔ بلند اواز سے ذکر کرنے کا مقصد: ابو سعید عبد اللہ بن عمر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تفسیر بیضاوی میں اس ایت میں مذکور لفظ’’قول‘‘ سے اللہ تعالی کا ذکر اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں جہر اللہ تعالی کو سنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ ذکر کو نفس میں راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغول ہونے سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے۔( بیضاوی طہ تحت الایۃ: ۷ ۴ / ۴۱)