Surah Taha Ayat 73 (20:73)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىٝ 73
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں اور وہ جادو بخش دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا۔
Tafseer (Urdu)
{انا امنا بربنا:بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے۔} جادوگروں نے کہا کہ بیشک ہم اپنے رب عزوجلپر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں مجبور کیا تھا ۔اور اگر ہم اللہ تعالی کی طاعت کریں تو وہ تیرے مقابلے میں فرمانبرداروں کو ثواب دینے میں بہتر ہے اور اگر ہم اس کی نافرمانی کریں تو وہ نافرمانوں پر عذاب کرنے کے لحاظ سے سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ فرعون نے جادوگروں کو جو جادو پر مجبور کیا تھا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے بلایا تو جادوگروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع فراہم کر دیا گیا انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام خواب میں ہیں اور عصاء شریف پہرہ دے رہا ہے۔ یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام جادوگر نہیں کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ جادوگر اللہ تعالی سے طالب اور امیدوار ہیں ۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۷۳ ۳ / ۲۵۹)