Surah Taha Ayat 74 (20:74)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى 74
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گاتو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ (ہی چین سے)زندہ رہے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جئے۔
Tafseer (Urdu)
{انه من یات ربه مجرما:بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ جادو گروں کے کلام کا حصہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں سے اللہ تعالی کا کلام شروع ہو رہا ہے اور ان ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جو اپنے رب عزوجل کے حضور فرعون کی طرح کافر ہوکر آئے گا تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا کہ مرکر ہی اس سے چھوٹ سکے اور نہ ہی اس طرح زندہ رہے گا جس سے کچھ نفع اٹھا سکے اور جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں نے اپنی زندگی میں نیک عمل کئے ہوں فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں تو ان کیلئے بلند درجات ہیں اور وہ درجات ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو کفر کی نجاست اور گناہوں کی گندگی سے پاک ہوا۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۷۴ ۳ / ۲۵۹) {فاولىك لهم الدرجت العلى:تو ان کیلئے بلند درجات ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بلند درجات ہیں ۔ بلند درجات والوں کے مقام کے بارے میں سنن ترمذی اورا بن ماجہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’بلند درجات والوں کو نچلے درجات والے ایسے دیکھیں گے جیسے تم افق میں طلوع ہونے والے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما ان میں سے ہیں اوریہ اسی کے اہل ہیں ۔( ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ۔۔۔ الخ ۵ / ۳۷۲ الحدیث: ۳۶۷۸) {و ذلك جزؤا من تزكى:اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔} اس ایت مبارکہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر عقلمند کو چاہئے کہ اگر وہ کفر و شرک کی نجاست سے الودہ ہے تو وہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر کے اور اسلام کے بیان کردہ عقائد اختیار کر کے کفر و شرک کی نجاست سے فوری طور پر پاک ہو جائے اور اس کے بعد خود کوگناہوں کی گندگی سے پاک صاف رکھے یونہی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ تمام گناہوں مذموم نفسانی اخلاق اور برے شیطانی اوصاف سے خود کو پاک کرے تاکہ قیامت کے دن اسے اللہ تعالی کی رحمت سے حصہ ملے اور اس کے فضل وکرم کے صدقے جنت میں بلند درجات نصیب ہوں ۔ اے اللہ !عزوجل ہمارے تمام گناہوں اور ساری خطاوں کو معاف فرما ہمیں گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق مرحمت فرما ہماری زندگی اور موت دونوں کو بہتر فرما دین اسلام پر ہمیں ثابت قدمی نصیب فرما حشر کے دن ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت اور ان کے صدقے میزان عمل اور پل صراط پر اسانی عطا فرما اور ہم تیرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے تجھ سے جنت اس میں بلند درجات اور تیرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا پڑوس مانگتے ہیں اے اللہ !عزوجل اپنی رحمت اور فضل و کرم کے صدقے ہمیں یہ عطا فرما۔امین۔